’یہ ہماری میٹنگوں میں شامل ہوتے تھے ‘ہمارے ساتھ کھانا کھاتے تھے‘ اوربی جے پی کے ساتھ جا ملے‘
سرینگر/۲۵؍اکتوبر
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ راجیہ سبھا انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو تین اور بی جے پی کو ایک نشست ملنے پر کسی کو شکایت نہیں ہونی چاہیے، البتہ ان کی جماعت کو پولنگ کے آخری لمحات میں ’’کچھ حلقوں کی طرف سے دھوکہ‘‘ ضرور ملا۔
جموں و کشمیر کے بطور مرکزِ زیرِ انتظام علاقہ بننے کے بعد پہلی مرتبہ منعقدہ راجیہ سبھا انتخابات میں نیشنل کانفرنس (این سی) نے تین نشستیں حاصل کیں، جبکہ بی جے پی کو ایک سیٹ ملی۔
عمر عبداللہ نے سری نگر میں ایک گْلِ داؤدی گارڈن کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا’’۱۔۳ کے نتیجے پر کسی کو کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔ ہم نے کوشش کی تھی کہ نتیجہ ۰۔۴ہو، لیکن جیسا کہ میں نے اپنے ایکس پوسٹ میں کہا تھا، ہمیں آخری وقت میں کچھ حلقوں سے دھوکہ دیا گیا۔ تقریباً سب کو اب ان لوگوں کے نام معلوم ہیں جنہوں نے ہمیں دھوکہ دیا، اسے دہرانے کی ضرورت نہیں، البتہ یہ افسوسناک ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اس بات سے مطمئن ہیں کہ نیشنل کانفرنس کے تمام ووٹ اپنی جگہ پر برقرار رہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’میں ان تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے نیشنل کانفرنس کے حق میں ووٹ دیا، خاص طور پر کانگریس اور دیگر ساتھیوں کا۔ جو لوگ آخری لمحے میں ہم سے منہ موڑ گئے، ان پر افسوس ہے، لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ نیشنل کانفرنس کا ایک بھی ووٹ ضائع نہیں ہوا۔ ہمارے چیف ایجنٹ کو ہر ووٹر نے اپنی پولنگ سلِپ دکھائی، اور ایک بھی ووٹ دوسری طرف نہیں گیا‘‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بی جے پی کو غیر بی جے پی اراکین کی طرف سے چار ووٹ ملنا تشویش کا باعث ہے، تو انہوں نے کہا کہ تشویش کی بات صرف یہ ہے کہ ’’جو ایم ایل اے نیشنل کانفرنس کی میٹنگوں میں شامل ہوتے تھے اور ہمارے ساتھ کھانا کھاتے تھے، وہی بی جے پی کے ساتھ جا ملے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا’’ایسے لوگوں میں ہمت ہونی چاہیے کہ وہ کھل کر بتائیں کہ انہوں نے بی جے پی کی حمایت کی۔ جیسے ہندواڑہ کے ایم ایل اے (سجاد لون) نے کیا۔ انہوں نے بی جے پی کے خلاف ووٹ نہیں دینا چاہا، اب ویڈیوز بنا رہے ہیں جیسے کوئی پروفیسر ہوں۔ لیکن انہیں کچھ مجبوری تھی، انہوں نے بی جے پی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہا اور کھل کر الیکشن سے کنارہ کشی اختیار کی‘‘۔
عمر عبداللہ نے کہا’’جنہوں نے چھپ کر بی جے پی کی مدد کی، انہیں اتنی جرأت تو دکھانی چاہیے کہ کہیں کہ یا تو انہوں نے بی جے پی کے حق میں ووٹ دیا یا جان بوجھ کر اپنا ووٹ خراب کر دیا تاکہ بی جے پی کو فائدہ پہنچے‘‘۔
پی ڈی پی کی حمایت پر پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ ’’ہر اْس شخص اور جماعت کے مشکور ہیں جنہوں نے نیشنل کانفرنس کے امیدواروں کی کامیابی کے لیے ووٹ دیا یا محنت کی‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے راجیہ سبھا اراکین جموں و کشمیر کے عوام سے متعلق ہر مسئلہ پارلیمان میں اٹھائیں گے، بشمول ریاستی درجہ اور خصوصی حیثیت کی بحالی۔انہوں نے کہا’’وہ نہ صرف ریاستی درجہ بلکہ اْس قرارداد پر بھی بات کریں گے جو اسمبلی میں خصوصی حیثیت اور آئینی ضمانتوں کے حق میں منظور کی گئی تھی۔ وہ عوامی مسائل بھی اٹھائیں گے‘‘۔
گْلِ داؤدی گارڈن کے افتتاح کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس سے وادی میں سیاحتی موسم میں توسیع ہوگی۔
ان کے مطابق’’ہماری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ سیاحتی سیزن کو بڑھایا جائے۔ ٹیولپ گارڈن سے موسمِ بہار میں سیاحوں کی آمد شروع ہوتی ہے، اور یہ گارڈن اسے مزید آگے بڑھائے گا۔ جیسے ہم نے ایشیا کا سب سے بڑا ٹیولپ گارڈن بنایا، ویسے ہی ہر سال گْلِ داؤدی کی افزائش بڑھاتے جائیں گے۔(ندائے مشرق خبر)‘‘










