بروسیلز، 13 اکتوبر (یو این آئی) یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن نے کہا ہے کہ ‘یورپی یونین فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات میں مدد کرے گی اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈ فراہم کرے گی’۔
‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں، ارسلا وان ڈیر لیئن نے کہا کہ ‘آج شرم الشیخ میں جنگ بندی کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ‘تاریخی سنگِ میل’ قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی اُن کے خاندانوں کے لیے خوشی اور پوری دنیا کے لیے اطمینان کا لمحہ ہے ، اس کا مطلب ہے کہ ایک باب بند کیا جا سکتا ہے ، ایک نیا باب شروع ہو سکتا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپ مکمل طور پر اُس امن منصوبے کی حمایت کرتا ہے ، جو امریکا، قطر، مصر اور ترکیہ کی جانب سے تیار کیا گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس کی کامیابی میں ہر ممکن مدد دینے کے لیے تیار ہیں، خاص طور پر حکمرانی میں تعاون اور فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات کے لیے بھرپور سپورٹ کریں گے ۔
صدر یورپی کمیشن نے کہا کہ ہم فلسطینی ڈونرز گروپ کے ایک فعال رکن کے طور پر کردار ادا کریں گے اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے یورپی یونین کی فنڈنگ فراہم کریں گے ۔
ارسلا وان ڈیر لیئن نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا یہ معاہدہ ‘اس خطے کے لیے ایک نئے باب’ کی نمائندگی کرتا ہے ۔
9 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیا تھا، جس کا مقصد اُس تباہ کن تنازع کو ختم کرنا تھا، جس میں دسیوں ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، فلسطینی علاقے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے اور ایک بڑے انسانی بحران نے جنم لیا ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بتائے گئے معاہدے کے کلیدی نکات کے مطابق حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے گی جبکہ اسرائیل اپنی افواج کو ایک طے شدہ لائن تک پیچھے ہٹا لے گا۔






