نئی دہلی، 11 اکتوبر (یو این آئی) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ریلائنس پاور لمیٹڈ (آر پی ایل) کے چیف فائننشل آفیسر (سی ایف او) اشوک کمار پال کو منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں گرفتار کیا ہے ۔ یہ گرفتاری 68 کروڑ روپے سے زائد کی فرضی بینک گارنٹی اور جعلی انوائسنگ سے متعلق ہے ، جس کا تعلق سرکاری ادارے سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا (ایس ای سی آئی) کو دھوکہ دینے سے متعلق ہے ۔
ذرائع کے مطابق ای ڈی نے جمعہ کی رات دہلی میں کئی گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد اشوک کمار پال کو حراست میں لیا۔ ایجنسی نے انہیں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے ) کے تحت گرفتار کیا ہے ۔ امکان ہے کہ ہفتے کے روز انہیں خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں ای ڈی ان کے ریمانڈ کی درخواست کر سکتی ہے ۔
ای ڈی کے مطابق، ریلائنس پاور لمیٹڈ، جو ایک لسٹڈ کمپنی ہے اور جس میں 75 فیصد سے زائد حصہ عوامی سرمایہ کاروں کا ہے ، نے ایس ای سی آئی کے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) ٹینڈر عمل میں اپنی مالی صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے فرضی بینک گارنٹی جمع کی تھی۔
کمپنی بورڈ کی منظوری کے تحت اشوک کمار پال کو ٹینڈر سے متعلق تمام دستاویزات کو حتمی شکل دینے ، منظوری دینے اور دستخط کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ اسی دوران، انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے فِرسٹ رینڈ بینک، منیلا (فلپائن) کے نام سے فرضی بینک گارنٹی ایس ای سی آئی کو پیش کی۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ فِرسٹ رینڈ بینک کی فلپائن میں کوئی شاخ ہے ہی نہیں۔
تحقیقات کرنے والی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس فراڈ میں بیسوال ٹریڈلنک پرائیویٹ لمیٹڈ (بی ٹی پی ایل) نامی ایک چھوٹی کمپنی کی مدد لی گئی، جو ایک رہائشی پتے سے چلائی جاتی ہے اور جس کا بینک گارنٹی سے متعلق کوئی ریکارڈ نہیں ہے ۔ بی ٹی پی ایل کے ڈائریکٹر پارتھ سارتھی بیسوال پہلے ہی عدالتی حراست میں ہیں۔
ای ڈی کی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اشوک کمار پال نے کمپنی کے فنڈز کا غلط استعمال کرتے ہوئے کروڑوں روپے کے جعلی ٹرانسپورٹ بلز کی منظوری دی۔ انہوں نے ٹیلیگرام اور واٹس ایپ جیسے ذرائع کے ذریعے دستاویزات کی منظوری دی، جس سے باقاعدہ ایس اے پی یا وینڈر ماسٹر سسٹم کو نظر انداز کیا گیا۔
اس گھپلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ فرضی بینک گارنٹی کے گروہ نے کئی نقلی بینک ڈومینز کا استعمال کیا۔ ان ڈومینز کو اصلی بینکوں کی ای میل آئی ڈیز کی نقل کرتے ہوئے بنایا گیا تھا تاکہ فرضی گارنٹی لیٹرز کو اصلی دکھایا جا سکے ۔
ای ڈی کا کہنا ہے کہ یہ اسکینڈل نہ صرف ایک سرکاری ادارے ایس ای سی آئی کو دھوکہ دینے کا معاملہ ہے بلکہ اس سے عوامی سرمایہ کاروں کے مفادات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے ۔ ایجنسی کے افسران نے اشارہ دیا ہے کہ مزید تحقیقات میں ریلائنس پاور گروپ کے دیگر اعلیٰ افسران کا رول بھی جانچ کے دائرے میں آ سکتا ہے ۔
ریلائنس پاور نے اس معاملے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ "دھوکہ دہی اور جعلسازی” کا معاملہ ہے اور کمپنی نے اس سلسلے میں اسٹاک ایکسچینج کو ضروری معلومات فراہم کر دی ہیں۔









