سرینگر/۱۱؍اکتوبر
متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو)نے وادی میں فروخت ہونے والے ذبح شدہ مرغیوں اور گوشت کے حلال ہونے پر بڑھتی ہوئی تشویش کے پیش نظر مقامی سطح پر تیار شدہ پولٹری اور گوشت کی خریداری پر زور دیا ہے ۔
یہ فیصلہ آج سری نگر میں مفتیِ اعظم جموں کشمیر مفتی ناصر الاسلام کی صدارت میں منعقد ایک اجلاس کے دوران لیا گیا، جس میں مجلس علماء کی تشکیل کردہ خصوصی کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وادی میں باہر سے منگوائی جانے والی ذبح شدہ مرغیوں کے حوالے سے موصول ہونے والی قابلِ اعتماد اطلاعات اور عوامی شکایات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
علما ء نے کہا کہ متعدد رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونِ جموں و کشمیر سے درآمد ہونے والی مرغیاں اسلامی اصولوں کے مطابق حلال طریقے سے ذبح نہیں کی جاتیں، جس سے عوام کے دینی جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔
اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں علماء نے ہوٹل و ریسٹورنٹ مالکان، گوشت فروشوں اور کھانے پینے کے شعبے سے وابستہ تمام افراد سے اپیل کی کہ وہ بیرونِ ریاست سے درآمد شدہ مرغی اور گوشت کی خرید و فروخت فوری طور پر بند کریں اور اس کے بجائے مقامی سطح پر تیار شدہ مصنوعات کو ترجیح دیں تاکہ اسلامی غذائی اصولوں کی مکمل پاسداری ممکن ہو سکے ۔
مفتی اعظم ناصر الاسلام نے کہا’’یہ فیصلہ معتبر ذرائع سے موصول شدہ شکایات اور مستند حقائق کی بنیاد پر لیا گیا ہے ، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمد شدہ پولٹری میں حلال کے تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے ‘‘۔
اسلام نے مزید کہا’’یہ ہم سب کی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وادی میں صرف حلال گوشت اور پولٹری ہی استعمال اور فروخت کی جائے ۔ پوری قوم کو اس اجتماعی فرض کی ادائیگی کے لیے متحد ہو کر قدم اٹھانا چاہیے ‘‘۔
مفتی اعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے کھانے پینے کے ذرائع کی شرعی حیثیت کے بارے میں باشعور رہیں اور ایسے تاجروں یا سپلائرز کا بائیکاٹ کریں جو غیر حلال ذرائع سے گوشت یا مرغی فراہم کرتے ہیں۔
مجلس علماء نے اس موقع پر انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے تعاون کی ستائش کی، تاہم ان پر زور دیا کہ وہ پولٹری اور گوشت کی سپلائی چین پر سخت نگرانی رکھیں تاکہ غیر حلال مصنوعات وادی میں داخل نہ ہوں۔
ایم ایم یو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقامی کسانوں، پولٹری فارمرز اور حلال گوشت پیدا کرنے والے اداروں کو مکمل تعاون فراہم کرے تاکہ ایک مضبوط، خودکفیل اور شرعی اصولوں کے مطابق حلال فوڈ نیٹ ورک قائم کیا جا سکے ۔
آخر میں اجلاس میں بتایا گیا کہ اس موضوع پر مجلس علمائے کرام کی جانب سے تیار کردہ تفصیلی سفارشات اور رہنما خطوط کو جلد ہی پریس اور میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ اس اہم مسئلے پر سماجی بیداری پیدا کی جا سکے ۔
اجلاس میں علما و مفتیان کرام شریک ہوئے جن میں مفتی نذیر احمد قاسمی، مفتی عبدالرشید مفتاحی، مولانا شوکت حسین کینگ، آغا محمد حسین، مفتی محمد علی اکبر، سید محمد اسلم اندرابی، اور مولانا سید رحمن شمس شامل تھے ۔










