بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

بھارت کاپاکستان پر پی او کے حوالے سے طنز:افغانستان سے کہا کہ ہم پڑوسی ہیں

بھارت کی ۱۰۶ کلومیٹر طویل سرحد افغانستان کے ساتھ اُس علاقے کی وجہ سے جڑتی ہے جو پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں ہے

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-10-11
in اہم ترین, تازہ تریں, عالمی خبریں
A A
بھارت کاپاکستان پر پی او کے حوالے سے طنز:افغانستان سے کہا کہ ہم پڑوسی ہیں
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’۱۰۰روزہ انسدادِ منشیات مہم محض آغاز ‘

مسلسل بارشیں:بیروہ میں میونسپل شاپنگ کمپلیکس سیلابی ریلے کی نذر

سرینگر/۱۰؍اکتوبر
بھارت نے جمعہ کوپاکستان کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر پر ایک واضح اور دوٹوک پیغام بھیجا، جب وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ مشترکہ بیان میں افغانستان کو ’متصل پڑوسی‘ قرار دیا۔
بھارت اور افغانستان کے درمیان۱۰۶ کلومیٹر طویل زمینی سرحد ہے، جو واکھان کاریڈور کہلاتی ہے…یہ ایک اسٹریٹجک طور پر اہم پٹی ہے جس پر چین کی نظریں بھی جمی ہیں۔ جے شنکر کے بیان کے تناظر میں یہ کاریڈور افغانستان کو کشمیر کے اْس حصے سے جوڑتا ہے جو غیر قانونی طور پر پاکستان کے قبضے میں ہے۔لہٰذا’متصل پڑوسی‘کا حوالہ پاکستان کو ایک تیز اور دوٹوک یاد دہانی تھی۔
جے شنکر نے کہا’’ایک متصل پڑوسی اور افغان عوام کا خیرخواہ ہونے کے ناطے، بھارت کو آپ کی ترقی اور پیش رفت میں گہری دلچسپی ہے‘‘۔ ساتھ ہی انہوں نے افغانستان کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے اور کابل میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان کیا۔مگر پاکستان پر یہ واحد طنز نہیں تھا۔
وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ بھارت اور افغانستان دونوں’سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے‘ سے دوچار ہیں۔
یہ بیان خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ اْس وقت سامنے آیا جب پاکستان نے افغانستان میں فوجی کارروائی کی، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہاں سے پاکستانی علاقے میں افغان حمایت یافتہ دہشت گرد حملے کر رہے ہیں۔
درحقیقت، جے شنکر اور متقی کی دہلی ملاقات سے چند گھنٹے قبل، پاکستانی فضائیہ نے کابل میں مبینہ طور پر ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘پر حملہ کیا تھا۔
ایک طالبان ترجمان نے کہا’’کابل میں دھماکے کی آواز سنی گئی، لیکن کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں… سب کچھ ٹھیک ہے، اور کسی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے‘‘۔
دوسری جانب، متقی نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی حکومت افغان سرزمین کو بھارت کے خلاف یا کسی دہشت گرد سرگرمی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے بھارت کی اْس امداد کی بھی تعریف کی جو اہم مواقع پر فراہم کی گئی، جیسے اگست کے زلزلے کے دوران جس میں ۲۰۰۰ سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، اور کووِڈ وبا کے دوران جب بھارت نے ویکسین بھیجی تھیں۔
متقی نے کہا’’میں دہلی میں موجود ہو کر خوش ہوں، اور یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان سمجھ بوجھ میں اضافہ کرے گا۔ بھارت اور افغانستان کو باہمی روابط اور تبادلے بڑھانے چاہئیں‘ہم کسی بھی گروہ کو اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔
ان کاکہنا تھا’’افغانستان بھارت کو ایک قریبی دوست سمجھتا ہے اور باہمی احترام، تجارت اور عوامی تعلقات پر مبنی رشتے چاہتا ہے۔ ہم اپنے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے ایک مشاورتی نظام قائم کرنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔
بھارت نے بارہا پاکستان کو اس کے غیر قانونی قبضے والے کشمیر پر خبردار کیا ہے اور اس کی دہشت گردی کی حمایت اور سرحد پار حملوں کی مذمت کی ہے۔ تازہ ترین مثال پہلگام کا وہ دل دہلا دینے والا حملہ ہے جس میں۲۶؍ افراد جاں بحق ہوئے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت واضح کر چکی ہے کہ پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کی واپسی اور سرحد پار دہشت گردی پر پاکستان کی کارروائی کسی بھی بات چیت کے لیے غیر متنازع شرائط ہیں۔
مئی میں، پہلگام حملے کے جواب میں بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں۹ دہشت گرد اڈے تباہ کیے تھے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے کہا تھا’’دہشت اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘ دہشت اور تجارت ساتھ نہیں چل سکتے اور دہشت اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ اگر ہم کبھی پاکستان سے بات کریں گے تو وہ صرف دہشت گردی اور پی او کے پر ہی ہوگی۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک )‘‘

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

طالبان وزیر کا بھارت کی سرزمین سے پاکستان کو پیغام: ’دہشت گردی کے خاتمے پر سبق سیکھو‘

Next Post

مرکز کوریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق عرضیوں پر جواب کیلئے چار ہفتوں کی مہلت

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’۱۰۰روزہ انسدادِ منشیات مہم محض آغاز ‘
اہم ترین

’۱۰۰روزہ انسدادِ منشیات مہم محض آغاز ‘

2026-07-22
مسلسل بارشیں:بیروہ میں میونسپل شاپنگ کمپلیکس سیلابی ریلے کی نذر
اہم ترین

مسلسل بارشیں:بیروہ میں میونسپل شاپنگ کمپلیکس سیلابی ریلے کی نذر

2026-07-22
’ ریاستی درجہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کی بنیاد ہے‘
اہم ترین

’ ریاستی درجہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی کی بنیاد ہے‘

2026-07-22
’حکومت سیاسی سرگرمیاں معطل کرے‘ باز آباد کاری پر توجہ دے‘
اہم ترین

’حکومت سیاسی سرگرمیاں معطل کرے‘ باز آباد کاری پر توجہ دے‘

2026-07-22
’جھلستی دھوپ کے باعث تعطیلات ہوئیں، اب بارشوں کے سبب توسیع، یہ کیسا فیصلہ؟‘
اہم ترین

’جھلستی دھوپ کے باعث تعطیلات ہوئیں، اب بارشوں کے سبب توسیع، یہ کیسا فیصلہ؟‘

2026-07-22
جموں کشمیر کے تمام اسکولوں کی  گرمائی تعطیلات۲۶ جولائی تک توسیع
اہم ترین

جموں کشمیر کے تمام اسکولوں کی گرمائی تعطیلات۲۶ جولائی تک توسیع

2026-07-22
وزیر اعلیٰ کا جموں و کشمیر کیلئے مزید سرمایہ کاری کا مطالبہ
اہم ترین

 بارش کے بعد آبی جماؤ  پر وزیر اعلیٰ کا  اسمارٹ سٹی  منصوبے کی تحقیقات کا اعلان

2026-07-22
’ منشیات کے مسئلہ براہِ راست تعلق دہشت گردی سے ہے‘
اہم ترین

 چہرہ شناختی نظام کی مدد سے یو اے پی اے کا ملزم اننت ناگ میں گرفتار

2026-07-22
Next Post
۱۳ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنے کی درخواست مسترد 

مرکز کوریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق عرضیوں پر جواب کیلئے چار ہفتوں کی مہلت

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.