سرینگر/۹؍اکتوبر
نیشنل کانفرنس کے ترجمانِ اعلیٰ اور ایم ایل اے زڈی بل تنویر صادق نے اپوزیشن جماعتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی پی، بی جے پی اور ان کی حلیف جماعتیں ایک ہی اسکرپٹ پر کام کر رہی ہیں اور ان سب کا ڈکٹیشن ایک ہی جگہ سے آتا ہے ۔
ان باتوں کا اظہار صادق نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کیا۔
صادق نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے جموں کشمیر کے عوام سے جو وعدے کئے ہیں، اُنہیں پورا کرنے کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن میں بھی سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
این سی ترجمان اعلیٰ نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس کی جانب سے اسمبلی میں’لینڈر گرانٹس (بحالی و تحفظ) بل‘پیش کیا گیا ہے ، جس کا مقصد ۲۰۲۲میں کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دے کر۱۹۶۰کے اصل قانون کو بحال کرنا ہے تاکہ مقامی لیز ہولڈروں کو ان کی زمینوں پر لیز کی توسیع کا حق دوبارہ دیا جا سکے ۔
صادق نے کہا’’میں نے خود ایک پرائیویٹ ممبر بل اسمبلی میں جمع کروایا ہے ، جس کا مقصد عام لوگوں، تاجروں اور غریب طبقے کو ریلیف دینا ہے ۔ اس بل کے ذریعے ہم چاہتے ہیں کہ اُن لوگوں کی لیز میں توسیع کی جائے جنہیں پچھلے برسوں میں زمینوں سے محروم کر دیا گیا‘‘۔
این سی ترجمان اعلیٰ نے پی ڈی پی کی جانب سے اسی موضوع پر کی گئی پریس کانفرنس کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو عوامی مسائل پر سنجیدگی سے بات کرنی چاہیے نہ کہ محض تشہیر کے لیے بیانات دینے چاہئیں۔
صادق نے کہا’’اسمبلی میں کسی بھی بل یا قرارداد کو پیش کرنے سے پہلے اُس پر عوامی تشہیر کی اجازت نہیں ہوتی، لیکن پی ڈی پی نے میڈیا کے سامنے آ کر محض ڈرامہ بازی کی، تاکہ وہ سیاسی فائدہ اٹھا سکیں۔ میں نے خاموشی سے ، بغیر کسی ہنگامے کے ، یہ بل جمع کروایا تاکہ عوامی مفاد کو حقیقی معنی میں ترجیح دی جا سکے ‘‘۔
نیشنل کانفرنس ترجمان اعلیٰ نے محبوبہ مفتی اور اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کی طرف سے حکومت پر کی گئی تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کی پریس کانفرنسیں ایک ہی پیغام دیتی ہیں۔
صادق نے طنزیہ انداز میں کہا’’کل پی ڈی پی اور بی جے پی دونوں نے الگ الگ پریس کانفرنسیں کیں، مگر ان کے بیانات میں ایک بھی لفظ کا فرق نہیں تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ بی ٹیم اور سی ٹیم کا ڈکٹیشن ایک ہی جگہ سے آتا ہے ‘‘۔
این سی ترجمان اعلیٰ نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی طرف سے ریاستی درجے کی بحالی کو عوامی ہلاکتوں سے جوڑنا ’انتہائی افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ‘بیان ہے ۔
صادق نے کہا’بی جے پی اور اس کی پراکسی جماعتیں ‘ چاہے وہ پی ڈی پی ہو یا اپنی پارٹی‘ریاستی درجہ بحالی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کل عدالت میں ریاستی درجہ کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت ہے ، اور اسی دباؤ کو کم کرنے کیلئے اپوزیشن جماعتیں پریس کانفرنسوں کا سہارا لے رہی ہیں‘‘۔
حکمران جماعت کے ترجمان اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکومت کو کئی ترقیاتی معاملات میں ریاستی درجہ کی عدم موجودگی کے باعث دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ریاستی درجہ جلد از جلد بحال کیا جائے تاکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں، عوام کو مفت بجلی اور اضافی راشن فراہم کیا جا سکے ، اور عوامی فلاح و بہبود کے وعدے پورے ہوں۔
صادق نے آخر میں کہا کہ ان کی پارٹی سیاسی انتشار کے بجائے عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے اور عوام کو حقیقی راحت پہنچانے کیلئے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔
ایجنسیز










