سرینگر/۹؍اکتوبر
وزیر اعظم‘نریندر مودی نے آج امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے پہلے دور کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کی’مضبوط قیادت ‘کا مظہر قرار دیا ۔
مودی نے ایکس پر لکھا’’ہم صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے پہلے دورکی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ وزیر اعظم نتن یاہو کی مضبوط قیادت کا مظہر بھی ہے ‘‘۔
وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کے عوام کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد رسانی سے راحت ملے گی اور دیر پا امن کی راہ ہموار ہو گی۔
اس دوران وزیرِ اعظم مودی نے آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو غزہ امن منصوبے کی کامیابی پر مبارکباد دی، جو امریکی رہنما کی جانب سے جنگ ختم کرنے کیلئے ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے، جس میں سینکڑوں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایکس پرایک اور پیغام میں انہوں نے کہا’’ وزیرِ اعظم مودی نے یہ بھی اعلان کیا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ بھارت،امریکہ تجارتی مذاکرات پر تبادلہ ٔ خیال کیا اور آئندہ چند ہفتوں میں مزید سرگرمیوں کے اشارے دیے۔
وزیرِ اعظم نے کہا’’میں نے اپنے دوست صدر ٹرمپ سے بات کی اور تاریخی غزہ امن منصوبے کی کامیابی پر انہیں مبارکباد دی۔ تجارتی مذاکرات میں حاصل پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ آنے والے ہفتوں میں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔‘‘
ان کا یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے فوراً بعد آیا جس کے مطابق غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور اسرائیل ،غزہ امن معاہدے کے پہلے دور کے لیے رضامند ہو گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے میں غزہ میں جنگ بندی، حماس کے ذریعے یرغمال بنائے اسرائیلیوں کی رہائی اور اسرائیل کی قید میں موجود فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے ۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے غزہ سمجھوتے سے متعلق’تاریخی جیت‘کی تصدیق کی اورکہا کہ سمجھوتے کے بارے میں صدر ٹرمپ اورنتن یاہو نے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے ۔
حماس نے بھی سمجھوتے سے متعلق اپنی رضامندی کی تصدیق کی جس میں غزہ میں جنگ بندی،اسرائیلی فوج کا انخلاء اور قیدیوں اور یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے ۔
سمجھوتے کے مطابق حماس زندہ بچے۲۰ یرغمالیوں اور ہلاک شدگان کی باقیات اسرائیل کے حوالے کرے گا جبکہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں اور۷؍اکتوبر۲۰۲۳ کے بعد حملوں میں گرفتار شدہ غزہ کے باشندوں کو رہا کرے گا۔
(ندائے مشرق ڈیسک )










