نئی دہلی، 9 ستمبر (یو این آئی) فنانشل انٹیلی جنس یونٹ – انڈیا کے ڈائریکٹر نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت 15 ورچوئل ڈیجیٹل ایسٹس سروس پرووائیڈرز کو قواعد کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیے ہیں۔
ان 15 وی ڈی اے ایس پیز میں ویکسا انٹرنیشنل ایکسچینج لمیٹڈ، بی ایل ایف گلوبل لمیٹڈ، ریزر ایکس، بٹونکس ایل ایل سی، ڈیجی فائنیکس لمیٹڈ، ہوپ فل ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ ، فب ٹی سی لمیٹڈ / ایکس ٹی ٹیکنیکل پی ٹی ای لمیٹڈ، ایل ٹریڈ لمیٹڈ، وو ٹیک لمیٹڈ، مارکیٹا ٹریڈنگ انک ، سی ایچ این گروپ ایل ایل سی، سمپل سواب لمیٹڈ ، ایف ایف جی ایکس گروپ ایل ایل سی، یو اے بی کلیئر وائٹ ٹیکنالوجیز اور فن سیون سی زیڈ شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ہی، ان کرپٹو اثاثہ جاتی سروس فراہم کنندگان کو عوام کی رسائی سے ان ایپلیکیشنز/یو آر ایل کو ہٹانے کے لیے بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں جو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قوانین کی متعلقہ شقوں کی تعمیل کیے بغیر غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں۔
وی ڈی اے ایس پیز کو مارچ 2023 میں پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ، 2002کی شقوں کے تحت اینٹی منی لانڈرنگ کے فریم ورک کے دائرہ کار میں لایا گیا تھا۔
ملک میں کام کرنے والے تمام ورچوئل ڈیجیٹل ایسٹس کے ماہرین کے لیے فنانشل انٹیلی جنس یونٹ – انڈیا کے پاس بطور رپورٹنگ ایجنسی رجسٹرڈ ہونا اور پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ، 2002 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے تحت مقررہ ذمہ داریوں کی تعمیل کرنا لازمی ہے۔ ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں اور فیئٹ (روایتی) کرنسیوں کے درمیان تبادلے، ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کی منتقلی، ان کی حفاظت یا انتظام، یا ان پر کنٹرول فراہم کرنے والے آلات جیسی سرگرمیوں میں مصروف تمام اداروں کے لیے اسے لازمی قرار دیا گیا ہے۔
رجسٹریشن کی ضرورت کا انحصار ملک میں انجام دی جانے والی سرگرمیوں پر ہے، ادارے کی فزیکل موجودگی اس کے لیے ضروری نہیں۔
وزارت نے عام لوگوں کو بیدار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کرپٹو پروڈکٹس اور این ایف ٹیز غیر منظم ہیں اور انتہائی جوکھم بھرے ہو سکتے ہیں۔ ایسے لین دین سے ہونے والے کسی بھی نقصان کی بھرپائی کے لیے کوئی ریگولیٹری قانون یا تلافی کی سہولت دستیاب نہیں ہو سکتی۔







