سرینگر/۸؍اکتوبر
اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر سخت حملہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ان کا ریاستی درجہ کا مطالبہ بے گناہ کشمیری شہریوں کو قتل کرنے کے لیے ہے؟
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرما نے الزام لگایا کہ عمر عبداللہ نے بطور وزیر اعلیٰ اپنے دور میں معصوم شہریوں کو نقصان پہنچایا۔’’میں کشمیریوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ہمیں دہشت گردی کے نام پر گھڑی گئی بے شمار من گھڑت کہانیاں ملیں گی۔ بہت سے لوگ بتاتے تھے کہ وہ بے گناہ تھے مگر عمر عبداللہ کے دورِ اقتدار میں انسدادِ دہشت گردی کے نام پر مارے گئے۔ کیا آپ ایسا ریاستی درجہ چاہتے ہیں جس میں بے گناہ کشمیری مارے جائیں؟ آپ نے دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں کیا بلکہ عام شہریوں کو نشانہ بنایا، ہڑتالیں نافذ کیں اور اسکول بند کر دیے‘‘۔
بی جے پی لیڈر نے کہا کہ عمر عبداللہ نے اپنے دورِ حکومت میں شہریوں کو نقصان پہنچایا اور لوگوں کی حفاظت میں ناکام رہے۔
شرما کا کہنا تھا’’کیا ریاستی درجہ نیشنل کانفرنس کی حکومتوں کے پاس ۲۰۰۸ سے ۲۰۱۴؍اور ۱۹۹۶ سے ۲۰۰۸ تک نہیں تھا؟ کیا ۱۹۸۹ اور۱۹۸۲ تک بھی آپ کی ہی حکومت نہیں تھی؟‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری ایسے ریاستی درجہ کے خواہاں نہیں جس میں نیشنل کانفرنس کے سیاسی مخالفین کو پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت بند کیا جائے اور والدین اپنے اسکول جانے والے بچوں کی سلامتی کے حوالے سے خوف میں زندگی گزاریں۔
نیشنل کانفرنس پر شدید تنقید کرتے ہوئے شرما نے پارٹی پر الزام لگایا کہ پی ایس اے اور پیلیٹ گن دونوں اسی نے متعارف کرائے۔ان کاکہنا تھا’’پیلیٹ گن آپ ہی نے متعارف کرائی، پی ایس اے آپ ہی نے نافذ کیا۔ اگر ہم اعداد و شمار کا موازنہ کریں تو سب سے زیادہ بے گناہ شہری آپ کے دورِ حکومت میں مارے گئے‘‘۔
شرما نے حکومتِ ہند کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے جموں و کشمیر سے دہشت گردی کا خاتمہ شہریوں کو نقصان پہنچائے بغیر کیا۔ان کاکہنا تھا’’کوئی بھی وزارتِ داخلہ پر یہ انگلی نہیں اٹھا سکتا کہ اس نے شہریوں کو نقصان پہنچایا۔ وزارتِ داخلہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ایک بھی مقامی نوجوان دہشت گردی میں شامل نہیں ہوا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کشمیری نوجوان حکومتِ ہند کی پالیسیوں کو قبول کر چکے ہیں اور اپنی بات جمہوری نظام کے اندر رہ کر کہنا چاہتے ہیں‘‘۔
اپوزیشن لیڈر نے عمر عبداللہ پر الزام لگایا کہ وہ ریاستی درجہ کے نام پر اپنی ناقص حکمرانی کو چھپانے کے لیے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’اگر آپ عمر عبداللہ کی تقریریں سنیں…چاہے ۱۵؍ اگست کو، عوامی جلسوں میں یا اداروں میں’وہ مسلسل جموں و کشمیر کے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے پاس اختیار نہیں‘‘۔
عمر عبداللہ کے دعووں کا جواب دیتے ہوئے شرما نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے وزارتی کونسل کے۹۷ فیصلوں کی منظوری دی۔انہوں نے کہا’’بتائیے، کون سی فائل لیفٹیننٹ گورنر نے منظور نہیں کی؟ کون سا عوامی مفاد کا فیصلہ روکا گیا؟ کیا یہ ۲۰۰ یونٹ مفت بجلی کا معاملہ ہے یا ۱۲؍ ایل پی جی سلنڈروں، یا ۱۰ کلو راشن یا ایک لاکھ نوکریوں کا؟‘‘
شرما نے مزید الزام لگایا کہ عمر عبداللہ عوام کو ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری اور ٹرانزیکشن آف بزنس رولز کے بارے میں بھی گمراہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ فائل وزیر اعلیٰ کے دفتر میں التوا میں ہے،‘‘ انہوں نے کہا، مزید دعویٰ کرتے ہوئے کہ وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے چیئرمین کی تقرری اور انجینئروں کی ترقی سے متعلق فائلوں پر بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔
بی جے پی لیڈر نے کہا کہ عمر عبداللہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے بجائے گورننس پر توجہ دینے چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اسمبلی کے اندر اور باہر لوگوں کے مسائل کو اٹھاتی رہے گی۔
وزیر ٹرانسپورٹ کے طور پر اپنے دور کا ذکر کرتے ہوئے، شرما نے کہا’’میں نے ذاتی طور پر۱۲۹ کنسولیڈیٹڈ ورکرس کو باقاعدہ بنایا اور اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو منافع پہنچایا‘‘۔ ان کا کہنا تھا’’جب میں وزیر ٹرانسپورٹ تھا، کارپوریشن کی آمدنی ۷۰ کروڑ تھی، آج یہ ۲۳۰ کروڑ ہے لیکن نیشنل کانفرنس نے اپنے تمام دعوؤں کے باوجود ایک بھی فرد کو ریگولر نہیں کیا‘‘۔
آئندہ اسمبلی اجلاس کے لیے بی جے پی کی ترجیحات کے بارے میں پوچھے جانے پر شرما نے کہا کہ پارٹی کی توجہ کارکنوں، کسانوں اور عام شہریوں سے متعلق مسائل پر رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ زمین پر موجود تمام مسائل چاہے وہ عام آدمی کے ہوں، غریب کے ہوں، کسان کے ہوں یا مزدور کے ہوں، ہم انہیں اسمبلی میں اٹھائیں گے۔
(ویب ڈیسک)










