سرینگر/۸؍اکتوبر
وزیر صحت سکینہ ایتو نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کوئی مطالبہ نہیں بلکہ یہاں کے عوام کا آئینی حق ہے، اور بی جے پی کے رہنما سنیل شرما کو بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وعدہ پارلیمان میں کیا گیا تھا۔
گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سرینگر میں منعقدہ وائٹ کوٹ تقریب سے خطاب کررہی تھیں۔
سیاسی امور پر بات کرتے ہوئے ایتو نے کہا، ’’ہم ریاستی درجہ کے لیے بھیک نہیں مانگ رہے۔ ریاستی درجہ جموں و کشمیر کے عوام کا حق ہے، اور یہ حق واپس دیا جانا چاہیے۔‘‘
بی جے پی رہنما سنیل شرما کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’انہیں وہ وقت یاد رکھنا چاہیے جب محترم وزیر داخلہ نے پارلیمان میں کھڑے ہو کر وعدہ کیا تھا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بہت جلد بحال کی جائے گی۔ اگر بی جے پی اب یہ دعویٰ کرتی ہے کہ یہاں امن قائم ہو چکا ہے اور ترقی ہوئی ہے، تو پھر بحالی میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں۔‘‘
ایتو نے مزید کہا کہ جموں کے عوام نے بھی اپنے ووٹوں کے ذریعے ریاستی درجہ کی بحالی کی حمایت ظاہر کی ہے۔ ’’اگر وہ واقعی سمجھتے ہیں کہ یہاں امن و خوشحالی آ گئی ہے، تو اگلا قدم ریاستی حیثیت کی بحالی ہونا چاہیے۔‘‘
وزیر صحت نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام اپنے آئینی حقوق کے لیے پْرامن اور پْرعزم جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ’’ریاستی درجہ ہمارا حق ہے، احسان نہیں‘‘۔
ایتو نے پہلے سال کے ایم بی بی ایس طلبہ کو مبارکباد دی اور میڈیکل نشستوں میں اضافے پر خوشی کا اظہار کیا، جو اب تقریباً ۱۹۰ تک پہنچ چکی ہیں۔
وزیر صحت نے کہا ’’یہ ہمارے لیے فخر کا لمحہ ہے کہ مزید طلبہ طب کے شعبے میں شامل ہو رہے ہیں۔ سفید کوٹ صرف ایک وردی نہیں، بلکہ خدمت اور ذمہ داری کی علامت ہے۔‘‘
ایتونے طلبہ کو طب کے پیشے میں ہمدردی کی اہمیت یاد دلاتے ہوئے کہا، ’’جب ایک ڈاکٹر سفید کوٹ پہنتا ہے تو وہ ایک بڑی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ اللہ کے بعد مریض کا سب سے بڑا بھروسہ اپنے ڈاکٹر پر ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں کے ساتھ نرمی اور احترام سے پیش آنا چاہیے۔ایجنسیز‘‘










