نیشنل کنزیومر ہیلپ لائن (این سی ایچ) کو جی ایس ٹی اصلاحات کے نفاذ کے بعد سے اب تک 3,981 شکایات موصول ہوئی ہیں، جن میں 31 فیصد سوالات اور 69 فیصد باضابطہ شکایات شامل ہیں۔
صارف امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت نے بتایا کہ ان شکایات پر سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے اور انہیں فوری کارروائی کے لیے برانڈ مالکان اور ای-کامرس کمپنیوں کو بھیج دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 1,992 شکایات کو سی بی آئی سی کے پاس کارروائی کے لیے بھیجا گیا جبکہ 761 شکایات کو متعلقہ کمپنیوں تک فوری حل کے لیے بھیج دیا گیا۔
شکایات کے اہم نکات یہ تھے کہ کئی صارفین کو لگا کہ جی ایس ٹی میں کمی کا فائدہ انہیں نہیں ملا۔ خاص طور پر تازہ دودھ کے بارے میں شکایت کی گئی کہ کمپنیوں نے قیمتیں کم نہیں کیں، جبکہ بعد کی تحقیقات سے یہ واضح ہوا کہ تازہ دودھ پہلے سے ہی جی ایس ٹی سے مستثنیٰ ہے اور اب یو ایچ ٹی دودھ کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ دوسری بڑی شکایت ای-کامرس پلیٹ فارمز پر خریدے گئے الیکٹرانک سامان کے حوالے سے تھی، جس میں صارفین کا کہنا تھا کہ جی ایس ٹی شرح کم ہونے کے باوجود وہی پرانی شرح وصول کی جا رہی ہے۔ تجزیے کے مطابق ٹی وی، مانیٹر، ڈش واشنگ مشین اور اے سی پر شرح 28 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کر دی گئی ہے جبکہ لیپ ٹاپ، ریفریجریٹر اور واشنگ مشین پہلے ہی 18 فیصد کے دائرے میں آتے ہیں۔ گھریلو ایل پی جی سلنڈروں اور پٹرول کی قیمتوں پر بھی شکایات آئیں، تاہم وضاحت کی گئی کہ گھریلو ایل پی جی پر 5 فیصد جی ایس ٹی بدستور لاگو ہے اور پٹرول جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر ہے۔
صارفین کے بڑھتے ہوئے ردعمل سے یہ واضح ہے کہ لوگ شکایتی نظام میں فعال طور پر حصہ لے رہے ہیں اور اپنے حقوق کے بارے میں باشعور ہیں۔ سی سی پی اے نے کہا ہے کہ وہ ان شکایات کے حل پر کڑی نظر رکھے گا اور جہاں بھی صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی پائی جائے گی وہاں فوری کارروائی ہوگی۔ صارف امور کی سکریٹری نِدھی کھرے کی صدارت میں صنعتوں اور تجارتی تنظیموں سے مشاورت بھی کی گئی ہے تاکہ جی ایس ٹی میں کمی کا براہِ راست فائدہ صارفین تک پہنچے۔ قابل ذکر ہے کہ جی ایس ٹی کا نیا فریم روک 22 ستمبر 2025 سے نافذ العمل ہے۔







