جمعہ, ستمبر 11, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

لداخ میں حالیہ صورتحال کے بعد سیاحتی شعبے پر منفی اثرات مرتب

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-10-02
in اہم ترین, کھیل
A A
لیہہ میں ہنگاموں اور ہلاکتوں کے بعد کرفیو نافذ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

ظہیر خان وینکوور اینکرز کے شریک مالک کے طور پر یوراج سنگھ کے ساتھ شامل

مشکل حالات سے نمٹنے میں ناکامی پر سعود شکیل مایوس، کہا: ہم بار بار وہی غلطیاں کر رہے ہیں

سرینگر/یکم اکتوبر
لداخ میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کے بعد خطے کے سیاحتی شعبے پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جو ہمیشہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے پرکشش مقام رہا ہے ، جہاں سال بھر سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔
ٹور اینڈ ٹریول سے وابستہ عہدیداروں کے مطابق لداخ میں پیش آئے پرتشدد مظاہروں نے سیاحوں کا اعتماد متزلزل کر دیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جس دن یہ واقعات پیش آئے ، اُسی دن سے بڑی تعداد میں سیاحوں نے اپنی بکنگ منسوخ کرنا شروع کر دی۔
سری نگر کے ایک معروف ٹور آپریٹر‘ رؤف ترمبو نے یو این آئی کو بتایا کہ وسط اکتوبر سے وسط نومبر تک کی تمام بکنگز منسوخ ہو چکی ہیں۔ ان کے بقول’’ہلگام حملے نے پہلے ہی ہماری کمر توڑ دی تھی، اور اب لداخ کی بکنگ منسوخ ہونے سے رہی سہی کسر پوری ہو گئی ہے ‘‘۔
ترمبو نے کہا کہ عام طور پر سری نگر سے لداخ اور لداخ سے سری نگر جانے والے سیاحوں کا ایک سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا تھا، لیکن حالیہ واقعات نے اس تسلسل کو توڑ کر رکھ دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو سیاحتی شعبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔
ترمبو کے مطابق وادی میں اس وقت ہوٹلوں کے بیشتر کمرے خالی پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ہوٹل ایسے ہیں جن میں ۱۰۰کمرے ہیں، لیکن ان میں صرف۴کمرے بُک ہوئے ہیں، باقی سب خالی ہیں۔ ان کے مطابق سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے۵۰سے۶۰فیصد رعایت بھی دی گئی، لیکن یہ حکمت عملی بھی ناکام ثابت ہوئی۔
ٹور آپریٹر نے مزید کہا کہ’’ماضی میں موسم سرما کے تین ماہ سیاحتی کاروبار کے لیے سنہری موقع ہوتے تھے ۔ پوجا اور دیوالی کی چھٹیوں پر یہاں ہوٹل مکمل طور پر بُک رہتے تھے ۔ لیکن پہلگام حملے کے بعد سے یہ سلسلہ ٹوٹ چکا ہے اور اب لداخ میں بدامنی نے ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔‘‘
سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق پہلگام حملے نے پہلے ہی کشمیری سیاحت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا تھا۔ غیر ملکی سیاحوں نے اپنی پہلے سے طے شدہ یاترا منسوخ کر دی تھی جبکہ ملکی سطح پر بھی بڑی تعداد میں لوگ واپس پلٹ گئے تھے ۔ اس کے بعد کشمیری ٹور آپریٹرز نے امید باندھی تھی کہ لداخ کا موسم خزاں اور پھر موسم سرما کے سیاحتی سیزن سے کچھ نقصان پورا ہو سکے گا۔ تاہم لہیہ میں پیش آئے پرتشدد مظاہروں نے ان امیدوں کو بھی خاک میں ملا دیا ہے ۔
یو این آئی نے جب اس حوالے سے لداخ میں قائم چند معروف ہوٹل مالکان سے رابطہ قائم کیا تو ان کا کہنا تھا کہ فی الحال کوئی خاص اثر دیکھنے کو نہیں مل رہا اور یہاں سیاح آ رہے ہیں۔ تاہم ٹور آپریٹرز کا کہنا ہے کہ بکنگ منسوخی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے ، اور جو سیاح موجود ہیں وہ بھی طویل قیام کے بجائے مختصر قیام کو ترجیح دے رہے ہیں۔
لداخ اور کشمیر کے سیاحتی کاروبار میں براہ راست لاکھوں افراد کا روزگار جڑا ہوا ہے ۔ ہوٹل مالکان، گیسٹ ہاؤسز، ہاؤس بوٹس، مقامی گائیڈز، ڈرائیورز اور دیگر چھوٹے کاروباری طبقے کا انحصار سیاحوں پر ہے ۔
ترمبو کے مطابق’’اس وقت وادی میں صرف پانچ سے سات فیصد سیاح ہی آ رہے ہیں جبکہ ماضی میں یہی تعداد ۸۰سے ۹۰فیصد تک ہوتی تھی‘‘۔
سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں حالات بہتر نہ ہوئے تو اس سال کا سردیوں کا سیزن بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ روایتی طور پر جنوری اور فروری میں گلمرگ اور سونہ مرگ جیسے مقامات پر ملکی اور غیر ملکی سیاح برف باری کا لطف اٹھانے کے لیے آتے ہیں، لیکن اگر موجودہ صورتحال نے طول پکڑا تو بکنگ کی شرح مزید کم ہو سکتی ہے ۔
ماہرین کے مطابق لداخ اور کشمیر دونوں خطوں کی معیشت کا ایک بڑا حصہ سیاحت پر منحصر ہے ۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مرکز اور مقامی انتظامیہ نے بروقت اقدامات نہیں کیے تو نہ صرف سیاحت بلکہ روزگار اور معیشت کے دیگر شعبے بھی منفی اثرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
پہلگام حملہ اور لداخ کی موجودہ صورتحال اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ امن و سکون کسی بھی سیاحتی صنعت کے لیے بنیادی شرط ہے ۔ جب تک حالات پُرامن اور سازگار نہیں ہوں گے ، سیاح اپنی منصوبہ بندی پر نظرثانی کرتے رہیں گے ۔ سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر اعتماد بحالی کے اقدامات کرے تاکہ آنے والے دنوں میں وادی اور لداخ کی معیشت کو سہارا دیا جا سکے ۔ایجنسیز

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں پاکستانی افواج کی فائرنگ سے ۸ مظاہرین ہلاک

Next Post

جموں ریل ڈویژن نے صرف ایک ماہ میں ۳۰ لاکھ روپے جرمانہ کئے

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

ظہیر خان وینکوور اینکرز کے شریک مالک کے طور پر یوراج سنگھ کے ساتھ شامل
کھیل

ظہیر خان وینکوور اینکرز کے شریک مالک کے طور پر یوراج سنگھ کے ساتھ شامل

2026-09-11
مشکل حالات سے نمٹنے میں ناکامی پر سعود شکیل مایوس، کہا: ہم بار بار وہی غلطیاں کر رہے ہیں
کھیل

مشکل حالات سے نمٹنے میں ناکامی پر سعود شکیل مایوس، کہا: ہم بار بار وہی غلطیاں کر رہے ہیں

2026-09-11
ہم نے دلیپ ٹرافی کا یہ خطاب ایک ٹیم کے طور پر جیتا ہے: ایشان کشن
کھیل

ہم نے دلیپ ٹرافی کا یہ خطاب ایک ٹیم کے طور پر جیتا ہے: ایشان کشن

2026-09-11
کھیل

بمراہ فٹ، ہرشیت کی جگہ یش ٹھاکر ہندوستانی ٹی-20 ٹیم میں شامل

2026-09-11
کھیل

پاکستان انڈر 19 ٹیم کو پناہ گزین سمجھ کر انگلینڈ میں احتجاج

2026-09-11
کھیل

میرا آندریوا کو شکست دے کر کوکو گاف یو ایس اوپن کے سیمی فائنل میں

2026-09-11
حکومت جموںکشمیر میں جنگل راج کی اجازت نہیں دے گی ‘
اہم ترین

’جموںکشمیر اپنی کہانیاں خود بیان کرے ‘

2026-09-11
لداخ کو آرٹیکل۳۷۱کے تحت آئینی تحفظات، منفرد طرز کا منتخب ادارہ ملنے کا امکان
اہم ترین

لداخ کو آرٹیکل۳۷۱کے تحت آئینی تحفظات، منفرد طرز کا منتخب ادارہ ملنے کا امکان

2026-09-11
Next Post
وزیر اعظم مودی 17 فروری کو کشمیر کےلئے ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائیں گے

جموں ریل ڈویژن نے صرف ایک ماہ میں ۳۰ لاکھ روپے جرمانہ کئے

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.