سرینگر/یکم اکتونر
بدھ کے روز پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں پاکستانی حکومت کے خلاف مسلسل تیسرے روز پرتشدد مظاہروں کے دوران آٹھ شہری ہلاک ہو گئے۔
ذرائع نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ باغ ضلع کے دھیر کوٹ میں چار افراد مارے گئے، جبکہ دو افراد مظفرآباد اور دو میرپور میں جان سے گئے۔
منگل کو مظفرآباد سے مزید دو ہلاکتوں کی اطلاع ملی تھی، جس سے کْل تعداد ۱۰ہو گئی ہے۔
گزشتہ ۷۲ گھنٹوں سے پی او کے میں بڑے پیمانے ‘ جن کی قیادت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کر رہی ہے‘ بنیادی حقوق کی ’عدم فراہمی‘ کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ ان مظاہروں میں بازاروں، دکانوں اور مقامی کاروباروں کا مکمل شٹر ڈاؤن اور ٹرانسپورٹ سروسز کی معطلی بھی شامل ہے۔
بدھ کی صبح مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور بڑے شپنگ کنٹینرز، جو مظفرآباد کی طرف مارچ کو روکنے کے لیے پلوں پر رکھے گئے تھے، دریا میں پھینک دیے۔
ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ درجنوں مظاہرین متحد ہو کر ان کنٹینرز کو پل سے نیچے دھکیل رہے ہیں۔
این ڈی ٹی وی رپورٹ نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ جے اے اے سی نے مظفرآباد کی ہلاکتوں کا الزام پاک رینجرز کی فائرنگ پر لگایا ہے، جبکہ دیگر اموات کا ذمہ دار پاک سکیورٹی فورسز بشمول فوج کی شدید شیلنگ کو قرار دیا ہے۔
مظاہرین‘ جن کا ’لانگ مارچ‘ مظفرآباد کی طرف کریک ڈاؤن کے باوجود جاری ہے ‘کے۳۸ مطالبات ہیں، جن میں پاکستان میں رہائش پذیر کشمیری مہاجرین کے لیے مختص پی او کے اسمبلی کی ۱۲ نشستوں کا خاتمہ شامل ہے۔ مقامی لوگ دلیل دیتے ہیں کہ یہ نشستیں نمائندہ طرزِ حکمرانی کو کمزور کرتی ہیں۔
جے اے اے سی کے رہنما شوکت نواز میر نے کہا’’ہماری مہم بنیادی حقوق کیلئے ہے جو ہمارے لوگوں کو ۷۰سال سے نہیں دیے گئے…یا تو حقوق دو یا عوام کے قہر کا سامنا کرو‘‘۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ چند قافلے ناکے توڑ کر مظفرآباد پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، اور بدھ کی صبح بڑی بھیڑ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔
میر نے وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کو سخت انتباہ بھی دیا۔انہوں نے کہا کہ ہڑتال ’پلان اے‘ ہے … ایک پیغام کہ عوام کا صبر جواب دے چکا ہے اور اب حکام کو خبردار کر دیا گیا ہے۔ جے اے اے سی کے پاس بیک اپ پلان بھی ہیں اور ایک شدید ’پلان ڈی‘ بھی موجود ہے۔
مظفرآباد فائرنگ کے حوالے سے جے اے اے سی نے کہا ہے کہ مسلم کانفرنس‘ جسے مبینہ طور پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی پشت پناہی حاصل ہے ‘کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔ جے اے اے سی نے ہلاک شدگان کے لواحقین کے لیے مالی معاوضہ اور سرکاری نوکری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
اس معاوضے کی رقم، کمیٹی کے مطابق، اتنی ہونی چاہیے جتنی ان دو پولیس افسران کے لواحقین کو دی گئی تھی جو ان مظاہروں کے دوران مارے گئے۔ کمیٹی کے۷ نکاتی مطالبات کی فہرست میں پی او کے اور پاکستان میں گرفتار مظاہرین کی رہائی بھی شامل ہے۔
اس دوران، ’فرینڈز آف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے نام سے ایک گروپ نے جمعرات کو لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے باہر مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔اسلام آباد نے ان مظاہروں کا جواب طاقت کے مظاہرے سے دیا ہے۔
پاکستانی نیوز ویب سائٹ ’ڈان‘ کے مطابق، بھاری ہتھیاروں سے لیس گشت دستوں نے پی او کے کے شہروں میں فلیگ مارچ کیا ہے، اور ہزاروں فوجیوں کو ملحقہ پنجاب صوبے سے دوبارہ تعینات کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے مزید ۱۰۰۰ فوجی بھیجے گئے ہیں۔پاکستانی حکومت نے علاقے میں انٹرنیٹ تک رسائی کو بھی محدود کر دیا ہے۔
پی او کے میں اس ہفتے ہونے والی جھڑپیں گزشتہ ہفتے پیش آنے والے ایک المناک واقعے کے بعد ہو رہی ہیں۔
۳۰شہری اس وقت مارے گئے جب چین ساختہ جے۱۷ لڑاکا طیاروں نے چین میں تیار کردہ ایل ایس۶ لیزر گائیڈڈ بم خیبر پختونخوا کے ایک دور دراز گاؤں پر گرائے۔
یہ اموات مقامی برادریوں میں شدید غم و غصے کا باعث بنیں، جو پہلے ہی حالیہ برسوں میں بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے باعث سخت بے چینی میں مبتلا تھیں۔ خیبر میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی سرگرمیاں ان کالعدم گروپوں کی آمد سے بھی جڑی ہیں جیسے جیشِ محمد، جو بھارت کی ’آپریشن سندور‘ کے بعد علاقے میں نئے اڈے قائم کرنے آ گئے ہیں۔(ندائے مشرق ڈیسک










