بہرائچ، 20 ستمبر (یو این آئی) اتر پردیش کے ضلع بہرائچ میں ہفتہ کے روز ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ منجھارہ توکلی علاقے کے گندھُ جھالہ گاؤں کا ہے ۔ یہاں دن دہاڑے ایک بھیڑیا گھر کے آنگن میں بیٹھے ہوئے دودھ پی رہے تین سالہ بچے کو اس کی ماں کے سامنے سے کھینچ کر جنگل میں لے گیا۔
ماں کی چیخ و پکار پر رشتہ دار اور گاؤں کے لوگ لاٹھیاں لے کر بھیڑیے کے پیچھے دوڑے لیکن بھیڑیا بچے کو لے کر گنے کے کھیتوں میں غائب ہو گیا۔ خبر لکھے جانے تک بچے اور بھیڑیے کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔
آنکیش اپنے چار بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ واقعہ کے بعد دیہات میں خوف و ہراس کا ماحول ہے ۔
گاؤں کے لوگوں نے محکمۂ جنگلات کی ٹیم پر غفلت کا الزام لگایا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 11 دن میں علاقے میں مسلسل خونخوار جانوروں کے حملے ہو رہے ہیں، لیکن محکمۂ جنگلات اب تک ان کا پتہ لگانے میں ناکام رہا ہے ۔ گاؤں کے لوگوں نے الزام لگایا کہ محکمۂ جنگلات انہیں گمراہ کر رہا ہے ۔
ڈی ایف او رام سنگھ یادو نے بتایا کہ محکمۂ جنگلات کی ٹیم دیہاتیوں کے ساتھ مل کر جانور کی تلاش کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں حملہ ہوا وہاں گنے کے کھیت بھی قریب ہیں، جس سے جانور کو چھپنے میں آسانی ہو رہی ہے ۔
قیصر گنج سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی آنند یادو بچے کے اہل خانہ سے ملنے پہنچے اور انہیں ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ انہوں نے گاؤں کے لوگوں کو بھی جلد کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ پورے گاؤں میں غم و غصہ کا ماحول ہے اور لوگ بچے کی محفوظ واپسی کے لیے دعا گو ہیں۔








