سرینگر/۱۹ ستمبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج محکمہ صنعت و تجارت کو ہدایت دی کہ وہ ایک فعال اور شمولیتی حکمتِ عملی اپنائے تاکہ جموں کشمیر کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا سکے، خاص طور پر روزگار کے مواقع، پائیداری اور مسابقت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔
وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ ایسے ایم ایس ایم ای یونٹس کی فوری نشاندہی کی جائے جو مشکل میں تو ہیں مگر کم سے کم سرکاری مداخلت سے دوبارہ فعال ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا’’ایسے یونٹس اگر بروقت سہارا ملے تو بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کر سکتے ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے رواں مالی سال میں سرمایہ جاتی اخراجات کے تحت سست رفتار پر تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر پی ایم ای جی پی اور آر ای جی پی اسکیموں کے تحت، اور محکمہ کو ہدایت دی کہ کم از کم گزشتہ سال کی پیش رفت کو تو دہرایا جائے۔
عمرعبداللہ نے نئی مرکزی سیکٹر اسکیم (این سی ایس ایس) کے تحت سرمایہ کاری کو فروغ دینے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا اور اسکیم کے تحت مقررہ اہداف مکمل کرنے کی ہدایت دی۔
وزیر اعلیٰ نے محکمہ صنعت کو یہ بھی کہا کہ ایسی صنعتوں کو ترجیح دی جائے جن کیلئے یا تو خام مال مقامی سطح پر دستیاب ہے یا تیار شدہ مصنوعات کی کھپت کا بازار مقامی سطح پر موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ نے صنعتی اسٹیٹس میں زمین کی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے اور ان یونٹس کو فوری زمین الاٹ کرنے کی ہدایت دی جنہوں نے پریمیم جمع کرایا ہے مگر ان کی فائلیں التوا کا شکار ہیں۔ انہوں نے ۴۶ نئی صنعتی اسٹیٹس کو جلد مکمل کرنے اور موجودہ اسٹیٹس کی ترقی کے کام لینے کی ہدایت دی تاکہ صنعتی زمین کا بہتر اور منصفانہ استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے محکمہ پر زور دیا کہ قومی معیار سے ہٹ کر بھی جموں و کشمیر میں’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘کو بہتر بنانے کے طریقے تلاش کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی جی ایس ٹی شرحوں کے تناظر میں ایسی پالیسیاں وضع کی جائیں جو نئی صنعتوں کو راغب کریں اور جس میں یہ واضح ہو کہ جموں و کشمیر اپنے ہمسایہ ریاستوں کے مقابلے میں کس طرح منفرد پوزیشن اختیار کر سکتا ہے۔
پالیسی کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے وزیر اعلیٰ نے محکمہ کو ہدایت دی کہ سنگل ونڈو کلیئرنس کے تحت درخواست دینے والی یا آپریشن شروع کرنے والی نئی صنعتوں سے باضابطہ فیڈبیک حاصل کیا جائے تاکہ عملی خامیوں کی نشاندہی کر کے انہیں دور کیا جا سکے۔
ہنر مند مصنوعات کی جی آئی سرٹیفکیشن کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جی آئی ٹیسٹنگ سہولیات کو بڑھایا جائے تاکہ محدود گنجائش کی وجہ سے تاجر مشکلات کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مناسب نظام قائم نہ ہوا تو جی آئی ٹیگنگ کا اصل مقصد ہی ضائع ہو جائے گا۔
عمر عبداللہ نے کہا’’جموں و کشمیر میں صنعتی ترقی صرف سرمایہ کاری کو راغب کرنے تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کے ذریعے نوجوانوں اور دستکاروں کے لیے روزگار، روزی روٹی اور پائیدار ترقی یقینی بنانی چاہیے‘‘۔
اس سے قبل کمشنر سیکریٹری صنعت و تجارت وکرم جیت سنگھ نے محکمہ کی پیش رفت پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال۲۰۲۴۔۲۰۲۵ میں جموں کشمیر میں سرمایہ کاری کی تکمیل ۴۱۴۵کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے جو۲۰۲۱ سے پہلے کی اوسط سے تقریباً ۱۰گنا زیادہ ہے۔
موجودہ مالی سال (اگست ۲۰۲۵ تک) میں ہی ۴۰۰۱ کروڑ روپے کے منصوبے شروع ہو چکے ہیں جن سے باضابطہ صنعتی شعبے میں۵۱۱۱ ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔ پہلی بار۵۰۰ کروڑ روپے سے زیادہ سرمایہ کاری والے متعدد یونٹس میٹلز، پلاسٹک، فارماسیوٹیکلز، ٹیکسٹائل اور فوڈ پروسیسنگ جیسے شعبوں میں قائم ہوئے ہیں۔
پریزنٹیشن میں مزید بتایا گیا کہ ایم ایس ایم ایز جموں و کشمیر کی جی ڈی پی میں۸ فیصد حصہ ڈالتی ہیں اور۸۸ء۱۰ لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتی ہیں، جن میں ۱۵ فیصد خواتین شامل ہیں۔ ایم ایس ایم ای ہیلتھ کلینک، اڈیم رجسٹریشن ڈرائیوز اور ریمپ اسکیم کے تحت صلاحیت سازی کے پروگرام جیسے اقدامات اس شعبے کو سہارا دینے کیلئے شروع کیے گئے ہیں۔
اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے بارے میں سنگھ نے بتایا کہ ۲۰۲۰ میں صرف ۶۹ رجسٹریشنز تھیں جو ۲۰۲۵ میں بڑھ کر۱۱۲۷ ہو گئی ہیں اور ان میں نمایاں جھکاؤ ٹیکنالوجی اور سروس پر مبنی منصوبوں کی طرف ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جموں و کشمیر آئندہ اکتوبر میں سری نگر میں اسٹارٹ اپ انڈیا، میٹی اور سیڈبی کے اشتراک سے ایک اسٹارٹ اپ سمٹ کی میزبانی کرے گا۔
مزید بتایا گیا کہ جموں و کشمیر بھر میں۳۹ء۴لاکھ دستکار رجسٹرڈ ہیں اور ۲۰۲۳۔۲۴میں برآمدات بڑھ کر۱۱۶۳ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ سری نگر کو ورلڈ کرافٹس کونسل نے ’ورلڈ کرافٹس سٹی‘ کا درجہ دیا ہے اور یونیسکو کے’کری ایٹو سٹیز نیٹ ورک‘ میں بھی شامل کیا ہے۔ ہنر مند مصنوعات کے لیے کیو آر پر مبنی سرٹیفکیشن میکانزم، جو اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا نظام ہے، بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
اس جائزہ اجلاس میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چوہدری، جو وزیر انچارج صنعت و تجارت بھی ہیں، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکریٹری اتل دولو، ایڈیشنل چیف سیکریٹری دھیرج گپتا، محکمہ صنعت و تجارت کے سربراہان اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔










