سرینگر/۱۷ستمبر
وادی کشمیر کے سیب کاشتکار اور تاجر اس سال بدترین بحران کا سامنا کر رہے ہیں جہاں ایک طرف سرینگر،جموں قومی شاہراہ پر رکاوٹوں کے باعث سیب سے لدی گاڑیوں کی نقل و حمل بری طرح متاثر ہوئی ہے تو وہیں دوسری جانب ٹرانسپورٹ کرایہ میں بے تحاشا اضافہ اور بازار میں قیمتوں میں نمایاں کمی نے باغبانی کے اس اہم شعبے کو درپیش مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ۔
کاشتکاروں کے مطابق چند ہفتے قبل فی بکس ٹرانسپورٹ لاگت۹۰روپے تھی جو اب بڑھ کر۳۰۰روپے تک جا پہنچی ہے ۔ دوسری طرف، بازار میں قیمتیں تقریباً نصف رہ گئی ہیں جس سے صنعت کو کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔
چرار شریف کے میوہ تاجر شاہین امین نے یو این آئی کو بتایا’’چند ہفتے قبل سیب پر فی بکس۹۰روپے کا ٹرانسپورٹ خرچہ آتا تھا لیکن اب یہ بڑھ کر۳۰۰روپے ہوگیا جو سراسر ناانصافی ہے ۔ ایک طرف شاہراہ کی بندش سے میوہ تاجروں کو پہلے ہی کروڑوں کا نقصان ہو چکا ہے اور رہی سہی کسر ٹرانسپورٹ والے نکال رہے ہیں۔ سرکار کو اس معاملے میں فوری مداخلت کرنی چاہئے ‘‘۔
شوپیان کے تاجر نیاز فاروقی نے صورتحال کو اور زیادہ سنگین قرار دیتے ہوئے کہا’’ٹرانسپورٹ اخراجات تین گنا بڑھ گئے ہیں، خریدار کم ہو گئے ہیں اور قیمتیں بھی گر چکی ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ سیب صنعت کی تاریخ کا سب سے بڑا نقصان ثابت ہوگا‘‘۔
فروٹ گروورز اینڈ ڈیلرز یونین نے اب تک کے نقصان کو۱۲۰۰کروڑ روپیے سے زائد قرار دیا ہے ، تاہم سوپور منڈی کے تاجروں اور کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اصل نقصان۵۰۰۰کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے ۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ بڑی گاڑیوں کی شاہراہ پر سست رفتاری اور ناقص ٹریفک مینجمنٹ نے سیب کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ۔ کئی باغ مالکان نے پھل اتارنے کا عمل روک دیا ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ہے ۔
انہوں نے حکومت پر براہ راست ذمہ داری عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قومی شاہراہ پر سیب سے لدے ٹرکوں کی بلا تعطل نقل و حمل یقینی بنائی جائے ، بصورت دیگر لاکھوں میٹرک ٹن سیب ضائع ہو سکتے ہیں اور یہ صنعت دیوالیہ پن کی طرف بڑھ سکتی ہے ۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر ٹرانسپورٹ محکمہ نے میوہ کاشتکاروں اور تاجروں کی جانب سے ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی من مانی کرایہ بندی کی شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے خصوصی کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
مشترکہ ٹرانسپورٹ کمشنر وکاس آنند نے ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر کشمیر اور تمام اسسٹنٹ ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ بڑی میوہ منڈیوں میں بار بار اور اچانک معائنہ کیا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر کارروائی کی رپورٹ کمشنر کے دفتر کو بھیجی جائے ۔
سرکاری بیان کے مطابق، سرینگر میں ایک خصوصی انفورسمنٹ ٹیم قائم کی گئی ہے جو روزانہ دو اضلاع میں چیکنگ کرے گی اور شکایت کی صورت میں فوری کارروائی عمل میں لائے گی۔
کاشتکاروں اور تاجروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ سیب کے اس موسم میں فوری اور ہنگامی بنیادوں پر مداخلت کی جائے تاکہ بھاری نقصانات کو روکا جا سکے ۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو باغبانی کی یہ صنعت، جو کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ، اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار ہو جائے گی۔یو این آئی










