’وادی کی مختلف فروٹ منڈیوں میں انتظار کر رہے ٹرکوں کو ترجیحی بنیاد پر آگے بڑھنے دیا جائے گا‘
سرینگر/۱۷ ستمبر
تین ہفتے کی بندش کے بعد بدھ کو سرینگر،جموں قومی شاہراہ بھاری گاڑیوں کیلئے کھول دی گئی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں فروٹ سے لدے ٹرک ملک کے مختلف حصوں کی جانب روانہ ہو گئے۔
بھاری بارشوں اور اچانک سیلاب کے باعث یہ اہم شاہراہ بند ہو گئی تھی، جس کے سبب وادی کشمیر سے پھلوں سے لدے ٹرک کئی دنوں تک درماندہ رہے۔
۲۷۰ کلومیٹر طویل جموں،سرینگر قومی شاہراہ (این ایچ ۴۴) گزشتہ ہفتے کھولی گئی تھی، تاہم اس پر صرف ہلکی گاڑیوں کو ہی چلنے کی اجازت تھی۔
ٹریفک (رورل) کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس رویندر سنگھ نے صحافیوں کو بتایا’’ہمارا مقصد زیادہ سے زیادہ درماندہ گاڑیوں کو، جو پھلوں سے لدی ہوئی ہیں، کلیئر کرنا ہے‘‘۔
ان کا کہنا تھا کہ شاہراہ پر پھنسی تمام گاڑیوں اور فروٹ منڈیوں میں انتظار کر رہے ٹرکوں کو ترجیحی بنیاد پر آگے بڑھنے دیا جائے گا۔
ایس ایس پی نے ڈرائیوروں سے اپیل کی کہ وہ بھاری گاڑیوں کی نقل و حرکت سے متعلق جاری کردہ ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کریں اور شاہراہ پر اوورٹیک سے گریز کریں۔
انہوں نے خبر دار کرتے ہوئے کہا ’’ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی حادثات کا باعث بن سکتی ہے، جو آگے چل کر شاہراہ کی بندش کا سبب بن سکتی ہے‘‘۔
گزشتہ ماہ مسلسل بارشوں اور فلیش فلڈز سے شاہراہ کو شدید نقصان پہنچا تھا، جس کی وجہ سے اس مرکزی شاہراہ کو بند کرنا پڑا۔
شاہراہ کی بندش سے وادی کے باغبانوں میں یہ خوف پیدا ہو گیا تھا کہ رواں برس کی فصل ملک کی بڑی منڈیوں تک شاید نہ پہنچ سکے۔
اگرچہ حکام نے پھلوں کو وادی سے باہر نکالنے کے لیے مغل روڈ کا استعمال کیا، تاہم اس سڑک کا دشوار گزار علاقہ بھاری گاڑیوں کی نقل و حمل کے لیے موزوں نہیں ہے۔
ٹریفک حکام نے بتایا کہ قومی شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل جاری ہے اور نویوگ قاضی گنڈ سے ۱۱بجے کے بعد چھوٹی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بدھ کو جموں سے کسی بھی گاڑی کو سری نگر آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکام نے لوگوں سے کہا کہ وہ ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کریں، لین ڈسپلن کے مطابق چلیں اور اوور ٹیکنگ کرنے سے اجتناب کریں۔
لوگوں سے کہا گیا کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سڑکوں کے متعلق تازہ جانکاری حاصل کرنے کے لئے ٹریفک پولیس ٹویٹر ہینڈل، فیس بک پیج اور سری نگر، جموں اور رام بن کے ٹریفک کنٹرول یونٹوں کے ساتھ رابطہ قائم کریں۔
ٹریفک حکام نے بتایا کہ وادی کو صوبہ جموں کے ساتھ جوڑنے والے مغل روڈ اور مرکزی زیر انتظام علاقہ لداخ کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر ، لیہہ شاہراہ اور سنتھن روڈ پر ٹریفک کی نقل و حمل ایڈوائزری کے مطابق جاری ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ قومی شاہراہ بند رہنے سے میوہ صنعت کو ہوئے نقصان پر کشمیر میں مقیم اپوزیشن جماعتوں بشمول پی ڈی پی اور پیپلز کانفرنس نے عمر عبداللہ والی قیادت جموں و کشمیر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے منگل کو سرینگر،جموں شاہراہ پر صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔ندائے مشرق خبر










