سرینگر/۱۷ ستمبر
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز کہا کہ بھارتی فوجیوں نے آپریشن سندور کے دوران پلک جھپکتے ہی پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔
وہ مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں پردھان منتری میگا انٹیگریٹڈ ٹیکسٹائل ریجن اینڈ اپیرل (پی ایم مترہ) پارک کی سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیر اعظم نے آپریشن سندور کے دوران بھارتی فوجیوں کی بہادری کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا’’بھارت ماتا کی سلامتی ہی ملک کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ پاکستان سے آئے دہشت گردوں نے ہماری بیٹیوں اور بہنوں کی عزت کو داغدار کرنے کی کوشش کی۔ آپریشن سندور کے ذریعے جواب دیتے ہوئے ہم نے دہشت گردی کے لانچ پیڈ تباہ کر دیے‘‘۔
مودی نے کہا’’ہمارے بہادر فوجیوں نے پلک جھپکتے ہی پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا‘‘۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا’’بس کل ہی ملک اور دنیا نے ایک پاکستانی دہشت گرد کو روتے اور اپنی حالتِ زار بیان کرتے دیکھا‘‘۔
مودی کا اشارہ غالباً اْس وائرل ویڈیو کی طرف تھا، جس میں جیشِ محمد (جے ای ایم) کا ایک کمانڈر یہ بتاتے سنا گیا کہ بھارتی افواج کس طرح ان کے ٹھکانے میں داخل ہوئیں اور حملہ کیا۔
آپریشن سندور کے تحت بھارت کی جانب سے پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) میں کئی دہشت گرد ٹھکانے تباہ کرنے کے کچھ مہینوں بعد‘جیش کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ دہشت گرد گروپ کے سربراہ مسعود اظہر کے خاندان کو بہاولپور پر حملوں میں ’چیر پھاڑ کر رکھ دیا گیا‘۔
وزیر اعظم نے کہا’’یہ ہے نیا بھارت، جو کسی ایٹمی دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ یہ دشمن کے گھر میں گھستا ہے اور وار کرتا ہے‘‘۔
مودی نے’سواستھ ناری، سشکت پریوار‘ اور ’آٹھواں راشٹریہ پوشن ماہ‘ مہمات کا بھی آغاز کیا، جن کا مقصد خواتین کی صحت کی خدمات کو فروغ دینا اور غذائیت کو عام کرنا ہے۔
یہ دورہ وزیر اعظم کا اپنی سالگرہ کے موقع پر ریاست کا دوسرا سفر تھا۔ اسی دن ۲۰۲۲ میں انہوں نے نامیبیا سے لائے گئے آٹھ چیتے کونو نیشنل پارک میں آزاد کیے تھے۔
خود انحصاری پر زور دیتے ہوئے مودی نے کہا’’یہ تہواروں کا موسم ہے، اور ہمیں دیسی سامان کے منتر کو یاد رکھنا ہے اور اپنی زندگیوں میں اپنانا ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’میری ایک عاجزانہ درخواست ہے اپنے ۱۴۰ کروڑ ہم وطنوں سے کہ جو بھی خریدیں، وہ ہمارے دیش میں بنا ہو اور اس میں کسی نہ کسی بھارتی کا پسینہ شامل ہو۔ اس میں میری بھارت ماتا کی مٹی کی خوشبو ہونی چاہیے‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ۱۷ ستمبر ۱۹۴۸ کو ملک نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی فولادی مرضی کو دیکھا۔انہوں نے کہا’’بھارتی فوج نے حیدرآباد کو جبر سے آزاد کرایا، اس کے عوام کے حقوق کی حفاظت کی اور بھارت کا وقار بحال کیا‘‘۔
مودی نے کہا’’اب ہم نے اس دن کو حیدرآباد لبریشن ڈے کے طور پر منانا شروع کیا ہے۔ آج حیدرآباد میں اس موقع کی شاندار تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے‘‘۔
دھار ضلع میں پروگرام کے دوران مودی نے اپنی ۷۵ویں سالگرہ پر عوام کی طرف سے دی گئی مبارکبادیں بھی قبول کیں۔
دریں اثناوزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے بدھ کے روز’ یومِ حیدرآباد‘کی تقریبات کے دوران پریڈ گراؤنڈ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک مؤثر بیان دیا۔
بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کی عسکری کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف، بالخصوص آپریشن سندور، کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی وجہ سے نہیں روکی گئیں، اور یوں بھارت،پاکستان تنازعے میں بیرونی ثالثی کے دعوؤں کو براہِ راست مسترد کر دیا۔
ان کاکہنا تھا’دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کسی کی مداخلت کی وجہ سے معطل نہیں کی گئی‘‘۔ سنگھ نے کہا، یہ زور دیتے ہوئے کہ دہشت گردی پر بھارت کے فیصلے مکمل طور پر خودمختار ہیں‘ انہوں نے دہرا دیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازع ایک دو طرفہ معاملہ ہے اور بھارت کسی بھی بیرونی مداخلت کو مسترد کرتا ہے، جیسا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی بارہا کہا ہے۔
وزیرِ دفاع نے سخت انتباہ بھی دیا کہ آپریشن سندور دوبارہ شروع کیا جائے گا اگر آئندہ کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے۔ اس اعلان نے بھارت کی دہشت گردی کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی اور قومی خودمختاری کے دفاع میں فیصلہ کن کارروائی کی تیاری کو مزید مستحکم کر دیا۔
یہ تقریر اْس تقریب کا حصہ تھی جس میں سابق ریاست حیدرآباد کے بھارتی یونین میں انضمام کی ۷۸ ویں سالگرہ منائی گئی۔ تقریبات میں پریڈ، پرچم کشائی اور آزادی کے متوالوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
سنگھ نے۱۷ ستمبر ۱۹۴۸ کے تاریخی دن کو یاد کیا جب حیدرآباد کو ’آپریشن پولو‘کے ذریعے بھارت میں شامل کیا گیا، جس کی قیادت اْس وقت کے نائب وزیرِاعظم سردار ولبھ بھائی پٹیل نے کی تھی۔ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے رضاکاروں کے خطرے کو ’بھارت کی سماجی ہم آہنگی پر ایک کاری ضرب‘ قرار دیا اور اس کا موازنہ پہلگام حملے سے کیا، جہاں لوگوں کو ان کے مذہب پوچھ کر قتل کیا گیا۔
تقریبات کے دوران سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کا مجسمہ بھی جوبلی بس اسٹیشن کے قریب کینٹونمنٹ پارک میں نصب کیا گیا۔ اس موقع پر مرکزی وزراء جی کشن ریڈی، گجیندر سنگھ شیکھاوت اور بندی سنجے کمار بھی موجود تھے۔
یومِ حیدرآباد کی تقریبات نے ایک بار پھر تلنگانہ میں جاری سیاسی بحث کو اجاگر کیا۔ جہاں بی جے پی اور مرکز اسے یومِ آزادی کے طور پر مناتے ہیں، وہیں ریاست کی کانگریس قیادت والی حکومت اسے تلنگانہ پرجا پالنا ڈے (عوامی حکمرانی کا دن) کے طور پر مناتی ہے۔
سنگھ کے خطاب نے مرکزی حکومت کے اتحاد، حب الوطنی اور قومی سلامتی کے حوالے سے واضح اور دوٹوک مؤقف کو اجاگر کیا۔ جی کشن ریڈی اور بندی سنجے دونوں نے کہا کہ اگر بی جے پی ریاست میں برسرِ اقتدار آتی ہے تو۱۷ ستمبر کو سرکاری طور پر اسی طرح منایا جائے گا جس طرح ۱۵ اگست اور۲۶ جنوری منائے جاتے ہیں۔(ندائے مشرق ڈیسک)









