پہلگام/۱۳ ستمبر
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ پہلگام میں پیش آیا حالیہ دہشت گردانہ حملہ کشمیری سیاحت اور معیشت کیلئے کاری ضرب ہے، جس کے منفی اثرات طویل عرصے تک محسوس کئے جا سکتے ہیں۔
این سی صدر نے کہا کہ وادی کی معیشت بڑی حد تک سیاحت پر منحصر ہے اور ایسے واقعات کشمیری عوام کی روزی روٹی پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
ہفتہ کو پہلگام میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں فاروق عبداللہ نے زور دے کر کہا کہ پہلگام جیسے سیاحتی مقام پر حملے کا مقصد کشمیر کی شبیہ کو خراب کرنا اور یہاں امن قائم ہونے کے تاثر کو نقصان پہنچانا تھا۔
این سی صدر نے کہا ’’یہ واقعہ ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی پر حملہ ہے۔ پہلگام اور دیگر سیاحتی مقامات پر لاکھوں لوگ اپنی روزی روٹی کماتے ہیں، اور دشمن انہی کو نشانہ بنا رہا ہے‘‘۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ حکومت اور سماج کے تمام طبقوں کو متحد ہو کر اس صنعت کو بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ سیاحوں کا اعتماد دوبارہ بحال ہو سکے۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت شعبہ سیاحت کی بحالی کیلئے کام کر رہی ہے اور سیاحوں کو واپس کشمیر لانے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں عمر عبداللہ ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کر رہے ہیں۔
این سی صدر کا کہنا تھا’’جو یہاں گالف ٹورنامنٹ ہے اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ سیاحوں کو یہ بتایا جائے کہ یہاں حالات ٹھیک ہیں، اور سیاحوں کو یہاں آنا چاہئے ‘‘۔
رکن اسمبلی ڈوڈہ معراج ملک کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کا جواب جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا’’ان کی بھی غلطی ہے انہوں نے غیر پارلیمانی زبان استعمال کی‘‘۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا’’میں نے وزیر اعظم صاحب اور وزیر داخلہ صاحب سے بات کی کہ ملک صاحب پر عائد پی ایس اے کو واپس لیا جائے ، معراج ملک کو بھی اپنے الفاظ واپس لینے چاہئے ، یہ مسئلے کو سلجھانے کا سب سے بہترین حل ہے ، طاقت کا استعمال ضروری نہیں تھا، بلکہ ہمدردی اور پیار کی ضرورت تھی‘‘۔
معاشرے میں پھیل رہی منیشات کی وبا کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس وبا کے خاتمے کئے صرف حکومت نہیں بلکہ لوگوں کو بھی سامنے آنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ منشیات فروش بھی ہمارے ہی لوگ ہیں ہمیں ان پر نظر رکھنی چاہئے ۔
سابق وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی بھی اسی تناظر میں ضروری ہے تاکہ کشمیری عوام اپنے فیصلے خود لے سکیں اور سیاحت سمیت معیشت کے دیگر شعبوں کو بہتر خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
این سی صدر نے کہا ’’ریاستی درجہ ضرور بحال ہوگا، اور وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر ایک بار پھر خوشحالی کی طرف بڑھے گا۔ایجنسیز‘‘










