ڈوڈہ/۱۳ ستمبر
ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ ‘ہرویندر سنگھ نے ہفتے کے روز کہا کہ ضلع میں اجتماعات پر پابندیاں بدستور نافذ رہیں گی، جبکہ اسکول پیر سے کھولے جانے کا امکان ہے، جس سے قبل حفاظتی معائنہ مکمل کیا جائے گا۔
ہفتہ کومیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنگھ نے کہا’’سیکشن ۱۶۳ کے تحت پابندیاں، جو پانچ سے چھ سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر روک لگاتی ہیں، بدستور نافذ ہیں۔ عوام کو واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ صرف ضروری سامان خریدنے کے لیے گھروں سے نکلیں اور فوراً واپس جائیں، غیر ضروری طور پر جمع ہونے سے گریز کریں‘‘۔
اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ حالیہ شدید بارشوں کے باعث عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، اس لیے تمام اداروں کا معائنہ ضروری تھا۔ ’’یہ معائنے کل شام تک مکمل کر لیے جائیں گے اور پیر سے بچے محفوظ طریقے سے اسکول جا سکیں گے‘‘۔
ڈپٹی کمشنر نے افواہوں کے پھیلاؤ کے خلاف بھی خبردار کیا۔ ’’ہمیں غلط خبروں کے پھیلنے کے حوالے سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ میری اپیل ہے کہ سبھی لوگ، بالخصوص والدین، بچوں کو سمجھائیں کہ ایسی خبروں پر توجہ نہ دیں۔‘‘
سنگھ نے مزید کہا کہ ضلع ڈوڈہ پْرامن ہے اور عوام نے مکمل تعاون کیا ہے۔ ’’ہمیں باہر سے پھیلائی جانے والی جھوٹی کہانیوں کے خلاف چوکس رہنا ہوگا‘‘۔
اس دوران ضلع میں ہفتے کو مسلسل پانچویں روز عام زندگی مفلوج رہی، جہاں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رکن اسمبلی اور ریاستی صدر معراج ملک کو پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے ) کے تحت حراست میں لیے جانے کے بعدمعمول کی سرگرمیاں متاثر ہیں۔
حکام کے مطابق، پیر کو ایم ایل اے کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج بھڑک اٹھا‘ جس کے پیش نظر انتظامیہ نے پابندیوں کے ساتھ ساتھ موبائل انٹرنیٹ اور براڈبینڈ سروسز بھی بند کر دیں۔
جمعے کی شام دو گھنٹے کی نرمی ضرور دی گئی جس دوران حالات پر امن رہے ۔ ہفتے کی صبح بھی پولیس اور نیم فوجی دستے سڑکوں پر گشت کرتے نظر آئے اور دکانداروں کو اپنی دکانیں بند رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متعدد گرفتار مظاہرین کو ذاتی مچلکوں پر رہا کر دیا گیا ہے ، تاہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے ۔ حساس علاقوں میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
پیر سے بدھ تک ضلع بھر میں احتجاجی مظاہرے اور جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران سیکورٹی فورسز کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ ان واقعات میں ایک ڈی ایس پی اور ایک ایس ایچ او سمیت آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ۔
چیف ایجوکیشن آفیسر نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام تعلیمی ادارے اتوار تک بند رکھنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔
دریں اثنا جموں کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں مسلسل جاری امتناعی احکامات اور انٹرنیٹ خدمات کی معطلی سے عام زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔
مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے فوری طور پر پابندیاں ہٹانے اور انٹرنیٹ و براڈ بینڈ سہولیات بحال کرنے کی پرزور اپیل کی ہے ۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی معطلی سے طلبا کو اپنی پڑھائی جاری رکھنے میں شدید دقتوں کا سامنا ہے ۔ اس وقت مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں کے امتحانات قریب ہیں اور طلبا کو آن لائن اسباق اور نوٹس تک رسائی ممکن نہیں ہو پا رہی ہے ۔ ایسے حالات میں ان کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے ۔
عوام نے کہا کہ پہلے دو ہفتوں کی مسلسل بارشوں نے زندگی کو متاثر کیا، اور اب سکیورٹی وجوہات کے پیش نظر عائد پابندیوں نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔ شہریوں نے انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ عوامی سہولیات کی بحالی کیلئے اقدامات کرے تاکہ عام زندگی معمول پر آسکے ۔
مقامی سماجی کارکنوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی نہ صرف طلبا بلکہ تاجروں اور ملازمت پیشہ افراد کے لئے بھی نقصان دہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں رابطے کا سب سے بڑا ذریعہ انٹرنیٹ ہے اور اس پر قدغن عوامی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے ۔










