جموں/۱۱ ستمبر
ایک خصوصی عدالت نے پہلگام دہشت گرد حملے میں گرفتار دو ملزمان پر پولی گراف اور نارکو ٹیسٹ کرانے کی این آئی اے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ایسے ’’سائنسی طریقے‘‘ آئین میں دیے گئے خود کو جرم ثابت کرنے کے خلاف حق کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
این آئی اے نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں ملزمان نے اپنی بیگناہی ثابت کرنے کیلئے رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم پیشی پر بشیر احمد جوتھٹ اور پرویز احمد نے عدالت میں صاف انکار کیا۔ دونوں کو ۲۶ جون کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کہ انہوں نے حملے میں ملوث تین دہشت گردوں کو پناہ دی تھی۔
چھ صفحات پر مشتمل عدالتی حکم میں کہا گیا’’دونوں ملزمان نے عدالت میں جمع کرایا کہ وہ کسی بھی طرح کا پولی گراف یا نارکو ٹیسٹ کرانے کے خواہشمند نہیں ہیں‘‘۔
عدالت نے اپنے حکم میں کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی ہدایات کا حوالہ دیا، جن کے مطابق کسی بھی سائنسی ٹیسٹ کے لیے رضامندی مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہونی چاہیے اور یہ عمل آزاد ادارے، جیسے کسی ہسپتال، کی موجودگی میں وکلا کے سامنے ہونا چاہیے۔
این آئی اے کے مطابق، ملزمان نے پہاڑی علاقے ہل پارک میں ایک موسمی ڈھوک پر دہشت گردوں کو پناہ، کھانا اور لاجسٹک مدد فراہم کی تھی۔
۲۲؍ اپریل کو دہشت گردوں نے پہلگام کے بائسرن وادی میں سیاحوں پر حملہ کیا تھا، جس میں ۲۶؍ افراد مارے گئے تھے ‘۲۵ سیاح مختلف ریاستوں کے اور ایک مقامی سید عادل شاہ، جنہوں نے حملہ آور کا ہتھیار چھیننے کی کوشش کی تھی۔
بعد ازاں، ۲۸ جولائی کو فوج نے تینوں حملہ آور دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔









