کشمیری قالین دنیا بھر میں اپنی باریک کاریگری، منفرد ڈیزائن اور پائیداری کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہ محض ایک ہنر نہیں بلکہ وادی کی تہذیبی شناخت اور صدیوں پرانی روایت ہے۔ لیکن گلوبل مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی مسابقت، سستے مشینی قالینوں کی بھرمار اور مقامی سطح پر دستکاروں کو درپیش مالی و تکنیکی مسائل نے اس صنعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
حالیہ برسوں میں کاریگروں کی نئی نسل اس پیشے سے کٹتی جا رہی تھی کیونکہ روایتی ہاتھ سے چلنے والے لومز نہ صرف وقت طلب تھے بلکہ آمدنی بھی محدود فراہم کرتے تھے۔
وادی کے دورے پر آئیںیونین ٹیکسٹائل سکریٹری نیلم شمی راؤ کی جانب سے جدید اسٹیل قالین لومز کی تقسیم ایک ایسا قدم ہے جو اس صدیوں پرانے ہنر کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش ہے۔ یہ لومز زیادہ پائیدار، وقت بچانے والے اور کاریگروں کے لئے سہل ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان کے ذریعے پیداوار میں اضافہ ہوگا اور عالمی مارکیٹ میں کشمیری قالین زیادہ مسابقتی حیثیت حاصل کر سکیں گے۔
راؤ نے آج ہاتھ سے بنے قالین بْنت کی منفرد دستکاری کو فروغ دینے اور دوبارہ زندہ کرنے کیلئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
راؤ نے یہ بات انٹیگریٹڈ وول ڈویلپمنٹ پروگرام (آئی ڈبلیو ڈی پی ) کے تحت دستکاروں میں ترمیم شدہ جدید اسٹیل قالین لومز تقسیم کرنے کے دوران کہی۔ یہ تقریب انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپٹ ٹیکنالوجی (آئی آئی سی ٹی) کیمپس، سری نگر میں منعقد ہوئی۔
اپنے خطاب میں یونین سکریٹری نے یو ٹی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ وزارتِ ٹیکسٹائل کو مزید تجاویز پیش کرے، بالخصوص ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن سہولیات کو اپ گریڈ کرنے کے لئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روایتی ڈیزائنوں کو زندہ کرنے کے ساتھ ساتھ جدید پیٹرنز کو بھی شامل کیا جائے تاکہ کشمیری ہنڈی کرافٹس کی عالمی کشش کو مضبوط بنایا جا سکے۔
راؤ نے کہا’’میں دہلی سے سینئر افسران کی ٹیم کے ساتھ اس لئے آئی ہوں تاکہ براہِ راست یہ جان سکوں کہ کس طرح نئے معیار متعارف کرائے جائیں جو دستکاری کے شعبے میں بیک ورڈ اور فارورڈ لنکیجز کو مضبوط کریں‘‘۔
اس سے قبل نیلم شمی راؤ نے آئی آئی سی ٹی کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا، جہاں ڈائریکٹر آئی آئی سی ٹی نے جاری تربیتی پروگراموں، ڈیزائن اسٹوڈیو اور ایل اے بی ایل سے منظور شدہ لیبارٹری کے بارے میں بریفنگ دی۔
راؤ نے آئی آئی سی ٹی کی لیبارٹری سہولیات کو مزید بڑھانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور کہا کہ ٹیکنالوجی کمپوننٹ کے تحت نیشنل ہینڈلوم ڈویلپمنٹ پروگرام (این ایچ ڈی پی) کے ذریعے پہلے ہی خصوصی فنڈنگ فراہم کی جا چکی ہے۔
یونین سکریٹری نے پشمینہ ٹیسٹنگ اینڈ کوالٹی سرٹیفکیشن سینٹر کا بھی دورہ کیا اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ کشمیری پشمینہ اور دیگر ہنڈی کرافٹس کی مستندیت یقینی بنانے کے لئے جدید ترین مشینوں کے حصول میں مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔
اپنے دورے کے دوران یونین سکریٹری نے پدم شری اور نیشنل ایوارڈ یافتہ دستکاروں سے بھی ملاقات کی، جن میں غلام حسن خان (پیچ ورک جمہ وار)، غلام نبی ڈار (لکڑی کی نقاشی)، اور فاروق احمد میر (کانی شال) شامل تھے، اس کے علاوہ نئے کاروباری حضرات جیسے شاہنواز کارپٹس اور بینش کریول ٹائز سے بھی تبادلہ خیال کیا۔
یونین سکریٹری نے اننت ناگ، بانڈی پورہ، بارہمولہ، بڈگام، کولگام اور سری نگر اضلاع کے کاریگر گروپوں میں ترمیم شدہ جدید اسٹیل قالین لومز تقسیم کیے۔ انہوں نے محکمہ ہینڈی کرافٹس اینڈ ہینڈلوم کشمیر کی جانب سے پیش کردہ ایک تجویز پر غور کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی جس کے تحت ۵۰۰؍ اضافی لومز خریدے جائیں گے تاکہ انہیں دستکاروں میں تقسیم کیا جا سکے۔








