امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی وزارتِ دفاع کا پرانا نام کل بحال ہوجائے گا۔ اسے اب پھر سے ڈپارٹمنٹ آف وار کہا اور لکھا جائے گا۔
روئٹرز کا کہنا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کل ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کریں گے ۔ جس کے بعد وزارتِ دفاع پھرسے محکمہ جنگ کہلائے گا۔
صدرٹرمپ کا کہنا ہے محکمہ دفاع سننے میں اچھا نہیں لگتا، ہم کس چیز کا دفاع کررہے ہیں اور دفاع ہی کیوں کررہے ہیں؟ ماضی میں اس محکمے کا نام محکمہ جنگ ہوا کرتا تھا، یہ سننے میں بھی اچھا لگتا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے جنگ عظیم اول جیتی، جنگ عظیم دوم جیتی اور بہت سی جنگیں جیت چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وفاقی جج نے ٹرمپ کی ۴؍ارب ڈالر کی غیرملکی امداد روکنے کی کوشش ناکام بنا دی۔
واشنگٹن ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج نے فیصلے میں قرار دیا کہ وائٹ ہاؤس یکطرفہ کانگریس کی منظور امداد نہیں روک سکتا، کانگریس کی مختص کردہ فنڈنگ پر عمل لازمی ہے وائٹ ہاؤس کی توجیہہ قابل قبول نہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کانگریس کے منظور۴؍ارب ڈالر کے فنڈز کو روکنیکی کوشش کر رہی تھی۔ فنڈز محکمہ خارجہ اور یو ایس ایڈ کے ذریعیعالمی امدادی پروگراموں کیلئے مختص کیے گئے تھے ۔
جج نے حکم میں کہا کہ فنڈز ۳۰ستمبر تک فراہم کرنا لازم ہے ورنہ دوبارہ کانگریس کی منظوری درکار ہو گی۔
واضح رہے کہ امریکی عدالت نے ایلون مسک کو یوایس ایڈ کیخلاف مزید کسی ایکشن سے روک دیا اور حکم دیا کہ یوایس ایڈ کے ملازمین کی دفاترتک رسائی فوری بحال کی جائے ۔
وفاقی جج نے یوایس ایڈ کے خاتمے کیخلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے ایلون مسک کو یوایس ایڈکیخلاف مزید کسی ایکشن سے روک دیا گیا۔








