’جہلم کا پانی ضرور بڑھ رہا ہے مگر اْس رفتار سے نہیں جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا‘افواہوں پر کان نہ دھریں ‘
سرینگر، جنوبی کشمیر میں احتیاطی انخلا شروع‘ اگلے چند گھنٹے نہایت اہم‘لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں :گرگ
(ندائے مشرق خبر)
سرینگر/۳ستمبر
بدھ کے روز جموں کشمیر میں سیلاب کی صورتحال میں نمایاں بگڑاؤ آیا، جب تقریباً تمام دریا اور نالے خطرے کی حد سے اوپر بہنے لگے ۔منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو دونوں صوبوں میں موسلادھار بارشوں کی وجہ سے سیلابی صورتحال باعث تشویش بن گئی ۔
حکومت نے وادی کے کچھ علاقوں سے لوگوں کو احتیاطی طورپر محفوظ مقامات پر منتقل کردیا ہے لیکن اس کا ساتھ ہی کہنا ہے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے ۔
اگرچہ آئندہ چند گھنٹوں کو اہم قرار دیا گیا ہے ‘ لیکن بدھ کی دوپہر سے وادی میں موسم مجموعی بور پر خشک رہا البتہ جہلم اور اس کی معاون ندیوں میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور خطرے کے نشان کو عبور کر چکی ہے ۔
وزیر اعلیٰ‘عمرعبداللہ نے بدھ کی رات ایکس پر ایک ٹویٹ میں کہا ’’ڈل کے گیٹس نہیں کھولے گئے ہیں، کنڈی زال بند نہ تو ٹوٹا ہے اور نہ ہی شگاف پڑا ہے۔ جہلم کا پانی ضرور بڑھ رہا ہے مگر اْس رفتار سے نہیں جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ انتظامیہ اپنی مستعدی میں کوئی کمی نہیں لا رہی، صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے لیکن ساتھ ہی عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ بلاوجہ پھیلائی جانے والی افواہوں پر یقین نہ کریں‘‘۔
محکمہ فلڈ اور اریگیشن کاکہنا تھا کہ رات ۹ بجے سنگم کے مقام پر جہلم کی سطح ۴۹ء۲۷ فٹ تھی ۔رام منشی باغ میں یہ ۶۷ء۲۱ جبکہ عشم کے مقام پر ۵۹ء۱۱ فٹ تھی ۔
دریں اثناڈویڑنل کمشنر کشمیر، انشل گارگ نے بدھ کو کہا کہ منگل سے جاری مسلسل بارشوں اور پانی کی سطح میں اضافے کے پیشِ نظر، کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے جنوبی کشمیر اور سرینگر کے کچھ حصوں میں احتیاطی انخلا کے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
ان کاکہنا ہے’’جیسا کہ ہم نے کل سے مسلسل بارشیں دیکھیں، خاص طور پر جنوبی کشمیر میں، پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور اب بھی اوپر جا رہی ہے۔ جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری کی صدارت میں منعقدہ جائزہ اجلاس میں احتیاطی اور پیشگی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی کے مطابق پلوامہ، اننت ناگ اور کولگام کے کچھ علاقوں میں احتیاطی انخلا شروع کر دیا گیا ہے‘‘۔
گرگ نے مزید کہا کہ سرینگر کے کچھ حصوں میں بھی احتیاطی اقدام کے طور پر اسی طرح کا انخلا کیا جا رہا ہے۔ ’’ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ تعاون کریں، ہدایات پر عمل کریں اور جہاں ممکن ہو محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں‘‘۔
ڈویڑنل کمشنر نے مزید کہا کہ وادی بھر میں۳۰۰سے زیادہ عمارتوں کو ریلیف اقدامات کیلئے شناخت کیا گیا ہے۔ ’’ضروری سپلائیز بشمول کھانا، پانی اور بجلی کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔ جو لوگ اپنے رشتہ داروں کے پاس منتقل ہونا چاہتے ہیں انہیں فوراً ایسا کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جبکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس پہلے ہی محفوظ مقامات کی نشاندہی کر چکے ہیں‘‘۔
گرگ نے مزید کہا’’اہم اشیائے ضروریہ کے حوالے سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے پاس پٹرول، ڈیزل اور دیگر سپلائیز کے کافی ذخائر موجود ہیں۔ تمام ایمرجنسی نمبرز اور ہیلپ ڈیسک فعال ہیں، ہم آہنگی قائم ہے، اور بجلی و مواصلاتی خدمات بھی بحال ہیں‘‘۔
یہ کہتے ہوئے کہ انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے، گرگ نے عوامی تعاون کی اپیل کی۔ ’’صورتحال قابو میں ہے، لیکن اگلے چھ سے سات گھنٹے نہایت اہم ہیں۔ ہم سب کو محتاط اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے‘‘۔
اس سے پہلے صوبائی کمشنر کشمیر‘ انشل گرگ نے موجودہ موسمی صورتحال کے پیش نظر لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کرتے ہوئے اس بات کا یقین دلایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہنگامی اور بچاؤ کے منصوبے تیار ہیں۔
گرگ نے بدھ کو یہاں نامہ نگاروں کو بتایا’’جنوبی کشمیر میں خاص طور پر گزشتہ رات سے زیادہ بارشیں ہوئیں، وسطی کشمیر میں رات بھر بارش ہوئی اور آج صبح بھی بارشیں ہوئیں، جس کی وجہ سے پانی کی سطح بڑھ رہی ہے ، سنگم اور رام منشی باغ میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (آئی ایم ڈی) کے مطابق بارش میں دوپہر کے بعد کمی واقع ہوگی اور شام تک مزید راحت مل سکتی ہے ‘‘۔
گرگ نے کہا کہ محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول نے دودھ گنگا پر ریت کے بیگ لگا دئے ہیں اور یہ کام لگ بھگ مکمل ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا’’ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر ٹیموں نے جنوبی کشمیر کے نشیبی علاقوں سے کئی خاندانوں کو بھی نکالا ہے ، ڈی سی سری نگر اور ان کی ٹیم نے ضلع میں ہنگامی منصوبے بھی بنائے ہیں۔ پولیس اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں جگہ جگہ موجود ہیں، ہمارے ایمرجنسی آپریشن سنٹر کام کر رہے ہیں، ہمارے پاور سسٹم چل رہے ہیں، ٹیلی کام سروس ٹھیک ہے ‘‘۔
سری نگر میں تیاریوں کے بارے میں پوچھے جانے پر گرگ نے کہا’’جہلم میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے لیکن صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے ، گزشتہ ہفتے کرسو راج باغ اور پمپوش کالونی میں کچھ مسائل تھے جہاں سیلاب آیا تھا، آج کوئی بڑے پیمانے پر سیلاب نہیں آیا، اگر ضرورت پڑی تو ریسکیو ٹیمیں موجود ہیں اور انہیں فوری طور پر متحرک کر دیا جائے گا، ہماری مجسٹریل ٹیمیں بھی موجود ہیں تاکہ وہ لوگوں کو بروقت آگاہ کر سکیں‘‘۔
رات بھر کی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے صوبائی کمشنر نے کہا کہ ڈی سی کولگام کی ٹیم گزشتہ رات سے ہی سرگرم ہے ،وہاں ۹گاؤں ایسے تھے جہاں ہمیں بچائو کارروائیاں انجام دینا تھیں، تقریباً ۲۵سو لوگوں کو امدادی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا، کچھ لوگ اپنے رشتہ داروں کے پاس منتقل ہوئے ، ویشو نالہ میں بہاؤ زیادہ تھا۔
صوبائی کمشنر نے کہا کہ جہاں آئی ایم ڈی نے بہتری کی پیش گوئی کی ہے وہیں انتظامیہ بھی پوری سے تیار ہے ۔
گرگ نے کہا’’جنوبی کشمیر کے اننت ناگ اور کولگام اضلاع جہاں نشیبی علاقوں میں پانی بھرا ہوا ہے ، انخلاء کے پروٹوکول موجود ہیں، اگر پانی کی سطح آئی ایم ڈی کی پیش گوئی کے مطابق آگے بڑھتی ہے اور شام کو کم ہونا شروع ہوتی ہے ، تو مجھے لگتا ہے کہ حالات معمول پر آجائیں گے‘‘۔
لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا’’سب کو بہت محتاط اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے دی گئی تمام ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ‘‘۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ آبی ذخائر سے دور رہیں۔









