شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک نے اپریل کے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی ہے اور اس حملے میں شامل لوگوں، اس کی سازش تیار کرنے والوں اورایسے حملوں کی منسوبہ بندی کرنے والوں کو قانون کے حوالے کرنے پر زور دیا ہے ۔
تیانجن میں منعقدہ ایس سی او کے۲۵ویں سربراہی اجلاس میں پیر کے روزمنظور شدہ قراردادوں میں دہشت گردی کے حوالے سے ایک سخت قرارداد پاس کی گئی۔
ایس سی او کے ارکان نے دہشت گردی کی، اس کی ہر شکل اور ہر طریقے کی سخت مذمت کی ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں د وہرا معیار قبول نہیں کیا جا سکتا۔تنظیم نے اس معاملے میں ہندوستان کی پہل کو قبول کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی ہے ، جس میں سرحد پار سے دہشتگردوں کی دراندازی کے خلاف کارروائی کی اپیل بھی شامل ہے ۔
اس سے پہلے وزیراعظم نریندر مودی نے کانفرنس کے مکمل اجلاس میں کہا تھا کہ دہشت گردی کہیں بھی ہو، کسی بھی شکل میں ہو، اس کا سختی سے مقابلہ کیا جانا چاہیے ۔
ایس سی او کے ممالک نے پہلگام حملے میں مارے گئے اور زخمی لوگوں کے اہل خانہ کے تئیں ہمدردی اور رنج کا اظہار کیا ہے ۔
ایس سی او کے تیانجن اعلامیہ میں کہا گیا ہے’’تنظیم کے رکن ملک پہلگام میں۲۲؍اپریل۲۰۲۵ کے دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں‘‘۔مزید براں، ’’ایسے حملے کرنے والوں، اس کی سازش تیارکرنے والوں اور اس کے سرپرستوں کو یقیناً قانون کے حوالے کیا جانا چاہیے ‘‘۔
ایس سی او کے رکن ممالک نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے پختہ عزم کو دہرایا ہے ۔اعلامیہ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ دہشت گردوں، علیحدگی پسند اور انتہا پسند گروہوں کو کرائے کے ٹٹو کی طرح استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ایس سی او نے دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر کے خطرات کے خلاف کارروائی کرنے میں ملکوں کی حکومتوں اور ان کی ایجنسیوں کے قائدانہ کردار کو تسلیم کیا ہے ۔
مشترکہ اعلامیہ میں دہشت گردی کے مسئلے پر سب کی شمولیت اور اس کی مذمت ہندوستان کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دو مہینے پہلے ایس سی او کے مشترکہ بیان پر دستخط نہیں کیے تھے ۔اس بیان میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔لیکن اب اس تنظیم نے ہندوستان کے موقف کو قبول کر لیا ہے ۔یہ دہشت گردی کے مسئلے پر ہندوستان کی بڑی جیت ہے ۔
پاکستان اور چین کے ہوتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ میں دہشت گردی کا ذکر اور سبھی ملکوں کا ساتھ ، ہندوستان کی سفارتی جیت کو ظاہر کرتا ہے ۔
اس سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تمام رکن ممالک کو اس معاملے پر دوہرا معیار ترک کرنا ہوگا اور انسانیت کے خلاف اس مشترکہ چیلنج کا متحد ہوکر مقابلہ کرنے کی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔
مودی نے سربراہی اجلاس سے خطاب میں دہشت گردی کے معاملے پرسختی سے ہندوستان کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی، امن اور استحکام کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی اس راستے میں بڑے چیلنجز ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا ’’دہشت گردی صرف کسی ملک کی سلامتی کے لیے ہی نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے ۔ کوئی بھی ملک، کوئی معاشرہ، کوئی بھی شہری اس سے خود کو محفوظ نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے ہندوستان نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اتحاد پر زور دیا ہے ‘‘۔
مودی نے کہا کہ ہندوستان کو گزشتہ چار دہائیوں سے بے رحم دہشت گردی کا سامنا ہے ۔ کنتی ہی ماؤں نے اپنے بچوں کو کھویا اور کتنے ہی بچے یتیم ہوئے ۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے کو دہشت گردی کا مکروہ چہرہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ہم نے پہلگام میں دہشت گردی کی کافی مکروہ شکل دیکھی۔ دکھ کی اس گھڑی میں جو دوست ممالک ہمارے ساتھ کھڑے رہے میں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ حملہ نہ صرف ہندوستان کی روح پر بلکہ انسانیت پر یقین رکھنے والے ہر ملک، ہر شخص کے لیے کھلا چیلنج تھا۔
مودی نے دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک کا نام لیے بغیر ان ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا کچھ ممالک کی جانب سے دہشت گردی کی کھلی حمایت ہمارے لیے قابل قبول ہوسکتی ہے ؟
وزیر اعظم نے دہشت گردی کے معاملے پر دوہرا معیار اپنانے والے ممالک پر بھی تنقید کی اور کہا کہ دہشت گردی کی مخالفت کرنا سبھی کی ذمہ داری ہے اور اس معاملے پر دوہرا معیار قبول نہیں کیا جائے گا۔
مودی نے کہا کہ ہمیں واضح اور یک آواز کہنا ہے کہ دہشت گردی پر کوئی دوہرا معیار قابل قبول نہیں ہوگا۔ہمیں دہشت گردی کے خلاف ہر رنگ و روپ میں مل کر مقابلہ کرنا ہے ، یہ انسانیت کے تئیں ہمارا فرض ہے ۔
دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف ہندوستان کی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے‘انہوں نے کہا ’’ہندوستان نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اتحاد پر زور دیا ہے۔ہندوستان نے ایک مشترکہ اطلاعاتی مہم کی قیادت کرتے ہوئے القاعدہ اور اس سے وابستہ دہشت گرد تنظیموں سے لڑنے کی پہل کی۔ ہم نے بنیاد پرستی کے خلاف تامل میل میں اضافے اور ملک کر قدم اٹھانے کی بھی تجویز رکھی۔ ہم نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف آواز اٹھائی۔ میں آپ کے تعاون کے تئیں اظہار تشکر کرتا ہوں۔‘‘










