وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سرینگر، جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کی جزوی نقل و حمل بحال کر دی گئی ہے اور پہلے درماندہ گاڑیوں کو چلنے کی اجازت ہے ۔
لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ لین ڈسپلن کا خیال رکھیں اور اوور ٹیکنگ کرنے سے اجتناب کریں۔
ادھر جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو صوبہ جموں کے پونچھ اور راجوری اضلاع کے ساتھ جوڑنے والے مغل روڈ اور وادی کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سرینگر، لیہہ شاہراہ اور سنتھن روڈ پر ٹریفک حسب ایڈوائزری جاری ہے ۔
ٹریفک حکام نے پیر کی صبح بتایا کہ قومی شاہراہ پر ٹریفک کی جزوی نقل و حمل بحال کر دی گئی ہے اور پہلے تباہ شدہ سٹرچ پر درماندہ گاڑیوں کو ہی منظم طریقے سے چلنے کی اجازت دی جا رہی ہے ۔
انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ لین ڈسپلن کا خیال رکھیں اور اوور ٹیکنگ کرنے سے اجتناب کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو صوبہ جموں کے پونچھ اور راجوری اضلاع کے ساتھ جوڑنے والے مغل روڈ اور وادی کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سرینگر، لیہہ شاہراہ اور سنتھن روڈ پر ٹریفک حسب ایڈوائزری جاری ہے ۔
حکام نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ سڑکوں کا تازہ اپ ڈیٹ معلوم کرنے کے لئے ٹریفک پولیس کے ٹویٹر ہینڈل اور فیس بک پیج کی طرف رجوع کریں۔
دریں اثنا قومی شاہراہ کے بند رہنے سے وادی کے بازاروں میں گراں بازاری بام عروج پر ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہ بند ہونے کے ساتھ وادی میں گراں بازاری آسمان چھونے لگتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی میں اشیائے ضروریہ بالخصوص اشیائے خورد و نوش کی اچانک قلت پیدا ہوجاتی ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ سبزیوں اور مرغ کی ریٹ اس قدر بڑھ گئی ہے عام لوگوں کے لئے ان کا خریدنا از بس مشکل بن گیا ہے ۔
ادھرشمالی ریلوے نے پیر کے روز جموں اور کٹرا کے درمیان شٹل سروس شروع کی تاکہ مقامی لوگوں اور بارش و طغیانی کے سبب پھنسے ہوئے مسافروں کو سہولت فراہم کی جا سکے ۔
یہ شٹل سروس یکم ستمبر سے۱۵ستمبر تک جاری رہے گی۔
ریلوے حکام کے مطابق چار ٹرینوں کو جموں،کٹرا سیکشن میں تعینات کیا گیا ہے جو روزانہ مسافروں، سرکاری ملازمین، طلباء اور بحالی کے کاموں میں مصروف مزدوروں کے ساتھ ساتھ پھنسے ہوئے یاتریوں کو بھی اپنی منزل تک پہنچائیں گی۔
واضح رہے کہ۲۶؍اگست کو شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے بعد پٹھانکوٹ،جموں سیکشن میں کئی مقامات پر پٹریوں کی خرابی اور زمین کھسکنے کے سبب گزشتہ ایک ہفتے سے جموں ریلوے ڈویژن میں ٹریفک معطل رہا۔ صرف پیر کو ہی۵۰سے زائد ٹرینیں منسوخ کرنی پڑیں۔
ریلوے انتظامیہ نے گزشتہ چار دنوں کے دوران خصوصی ٹرینیں بھی چلائیں جن کے ذریعے۵۷۸۴ پھنسے ہوئے مسافروں کو جموں سے ان کی منزلوں کی طرف روانہ کیا گیا۔
شدید بارش اور طغیانی کے باعث ریلوے اور سڑک ٹریفک بری طرح متاثر ہوا تھا جبکہ بڑی تعداد میں یاتری کٹرا اور دیگر مقامات پر پھنس کر رہ گئے تھے ۔










