وزیر اعلی عمر عبداللہ نے آج کہا کہ مسلسل بارش نے پیشگی پیش گوئیوں کے باوجود تباہ کن تناسب کی سیلاب جیسی صورتحال پیدا کردی ہے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ان کی حکومت کی فوری ترجیحات بچاؤ ، امداد اور بحالی ہیں ، وزیر اعلی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کے ردعمل میں جواب دہی اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے سخت ڈیڈ لائن مقرر کی جانی چاہیے۔
جموں میں سول سیکرٹریٹ میں ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلی نے جموں و کشمیر میں مسلسل بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا اور موجودہ موسمی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی اور فلاحی اقدامات کا جائزہ لیا۔
جموں ضلع کے ایم ایل اے اور بنی کے ایم ایل اے ڈاکٹر رامیشور سنگھ وزیر اعلی کو اپنے حلقوں میں ہونے والے نقصانات سے آگاہ کرنے کے لیے موجود تھے۔
جموں ضلع انتظامیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے ، عمر عبداللہ نے کہا کہ بہت سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو مؤثر طریقے سے بچایا گیا ہے۔ ان کاکہنا تھا’’ریلیف ڈیلیوری ہمارا اگلا مشن ہے۔ ہمیں ان لوگوں کیلئے انتظامات کرنے ہیں جن کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جب تک وہ آباد نہیں ہو جاتے ، ان کی دیکھ بھال کریں‘‘۔
وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ نقصانات کا فوری جائزہ لیا جائے تاکہ حکومت ہند کے ساتھ مالی پیکیج کی پیروی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ کوئی بھی بھوکا نہ رہے اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا پھیلاؤ نہ ہو۔ ملبے کو ہٹانا اور جوانوں اور مشینری کی تعیناتی ہماری فوری توجہ ہوگی ۔
عمرعبداللہ نے عوامی خدمات کیلئے عملی اور مقررہ وقت کے اہداف طے کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ان کاکہنا تھا’’ہمیں ایماندار ہونا چاہیے اور حقیقت پسندانہ امیدیں دینی چاہیے۔ لوگوں کو ایک عملی تصویر پیش کی جانی چاہیے‘‘۔
بجلی کی بندش اور پانی کی فراہمی میں رکاوٹوں کا نوٹس لیتے ہوئے ، وزیر اعلی نے عارضی انتظامات اور جہاں بھی ضرورت ہو ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی میں اضافے کی ہدایت کی۔ ’’پانی اور بجلی کی فراہمی کی بحالی ہماری اولین ترجیح ہے۔ نہروں اور نالوں سے گاد کو ہٹانے کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ بارش کے پانی کی مزید شدت یا بیک فلو کے دوبارہ ہونے سے بچا جا سکے‘‘۔
اجلاس میں ایم ایل اے کی تجاویز بھی سنی گئیں ، جن پر وزیر اعلی نے یقین دلایا کہ راحت اور بحالی کے مرحلے کے دوران غور کیا جائے گا۔ جموں و کشمیر کے صوبوں کے ڈویڑنل کمشنروں نے وزیر اعلی کو بارشوں اور سیلاب کے دوران کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا ، جبکہ ڈپٹی کمشنروں نے ضلعی سطح کے اقدامات کے بارے میں اطلاع دی۔
وزیر جاوید احمد رانا نے وزیر اعلی کو سیلاب جیسی صورتحال کو کم کرنے اور خاص طور پر جموں ڈویڑن میں امدادی اور بحالی کی منصوبہ بندی میں اپنے محکمے کی تیاریوں سے آگاہ کیا۔ وزیر اعلی نے وزیر کو جموں میں پانی کی فراہمی کی تباہ شدہ اسکیموں کی بحالی کو یقینی بنانے اور پانی کا بہاؤ دوبارہ شروع کرنے سے پہلے نہروں اور نالوں کی صفائی میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔
وزیر اعلی کے مشیر ناصر اسلم وانی نے بھی ریلیف کوآرڈینیشن پر ہونے والی بات چیت میں شرکت کی۔
ڈویڑنل کمشنر کشمیر کو سری نگر شہر میں سیلاب جیسی صورتحال کے خلاف احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئیں۔ کشمیر ڈویڑن کے ڈپٹی کمشنروں کو مزید خراب موسمی حالات کیلئے تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
وزیر اعلی نے جموں،سرینگر قومی شاہراہ کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اگر آنے والے دنوں میں شاہراہ نہیں کھولی گئی تو مغل روڈ کے ذریعے وادی کو ضروری سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
اس سے پہلے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مانسون کی شدید بارشوں اور جموں میں سیلاب کی صورت حال کے بعد نقصانات کا جائزہ لینے اور فوری اِمدادی اَقدامات کی نگرانی کے لئے آج شہر کا تفصیلی دورہ کیا۔
عمرعبداللہ نے جموں میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا اور انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ حساس علاقوں میں لوگوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لئے تمام ضروری اَقدامات کریں۔
وزیر اعلیٰ کے ہمراہ وزیر برائے خوراک ، شہری رسدات اور اَمورصارفین ، ٹرانسپورٹ ستیش شرما بھی تھے۔ وزیراعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا،صوبائی کمشنرکمشنر جموں رمیش کمار، اِنسپکٹر جنرل پولیس جموں زون بھیم سین ٹوٹی، ضلع ترقیاتی کمشنر جموں ڈاکٹر راکیش منہاس، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انسویا جموال اور دیگر ضلعی افسران بھی موجود تھے۔
صوبائی کمشنر رمیش کمار اورضلع ترقیاتی کمشنر راکیش منہاس نے وزیراعلیٰ کو جاری ریسکو آپریشنز، عارضی پناہ گاہوں کے کام، رسد کی فراہمی اور بین محکمہ جاتی رابطہ کاری کے بارے میں بریف کیا۔
وزیر اعلیٰ نے دورے کے دوران چوتھے توی پُل بھگوتی نگر، پرانے کیمپس یونیورسٹی میں سائنس کالج، ہوٹل فورچیون رویرا کے قریب ہری سنگھ پارک اور گجر نگر جموں کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا معائنہ کیا۔ اُنہوںنے زور دیا کہ چوتھے توی پل کا خراب شدہ حصہ فوری تکنیکی جانچ کی ضرورت ہے اور یاد دِلایا کہ یہ ڈھانچہ۲۰۱۴ ء کے سیلاب میں بھی متاثر ہوا تھا۔ اُنہوں نے آئندہ ایسے خطرات سے بچنے کے لئے حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
عمر عبداللہ نے تباہ شدہ مکانات کے معاملے پر کہا کہ بحالی کے منصوبے کو جامع انداز میں تیار کیا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ کنبوں کو مناسب مدد مل سکے۔ اُنہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ فوری طورپر زمینی چیلنجوں کی نشاندہی کریں اورانہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ اُنہوں نے سیلاب کی صورتحال سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا ہے جنہوں نے مرکزی حکومت کی مکمل حمایت کا یقین دِلایا۔ وزیراعلیٰ نے وزیر اعظم کو دریائے توی کے کنارے جموں کے کئی متاثرہ علاقوں میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والے علاقوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے وزیر اعظم کی طرف سے دی گئی یقین دہانی پراطمینان کا اِظہار کیا اور سیلاب کے پیش نظر جموںوکشمیر کی مدد جاری رکھنے کا وعدہ کرنے پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔
عمرعبداللہ نے کٹرہ میں حالیہ لینڈ سلائیڈنگ میں یاتریوں کی ہلاکتوں پر گہرے دُکھ کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ موسم کی شدت کے بارے میں پیشگی انتباہات کے پیش نظر یاتریوں کو راستے میں آگے بڑھنے سے روکنے اور انہیں محفوظ مقامات پر رکھنے کے لئے حفاظتی اقدامات پہلے ہی عملائے جانے چاہیے تھے۔ ۔ اُنہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دُکھ کا اظہار کیا اور تعزیت پیش کی۔
وزیراعلیٰ نے بی ایس این ایل اور نجی ٹیلی کام آپریٹرز جیو نیٹ ورک اور ایئرٹیل کو ہدایت دی کہ جموں و کشمیر میں اِنٹرنیٹ اور ٹیلی کام خدمات کو فوری طور پر بحال کریں کیوںکہ ان کی بندش نے کام اور رابطے میں رُکاوٹ پیدا کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بحران اورایمرجنسی حالات میں مواصلاتی نیٹ ورک کا فعال ہونا نہایت ضروری ہے۔
اُنہوں نے ہدایت دی کہ سری نگر۔جموں قومی شاہراہ اور جموں۔پٹھان کوٹ شاہراہ پر فوری اقدامات کئے جائیں تاکہ درماندہ گاڑیاں نکالی جا سکیں اور ٹریفک جلد از جلد بحال ہو۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ بجلی، پانی کی فراہمی اور سڑکوں کی بحالی کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کریں۔
بعد میں عمر عبداللہ نے اَپنے فیلڈ دورے کے دوران متعدد سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کیا، رہائشیوں سے ملاقات کی، نقصانات کا جائزہ لیا اور حکام کو ہدایت دی کہ ریلیف کے اَقدامات تیز کریں، عارضی اِنتظامات یقینی بنائیں اور بنیادی سہولیات فوری بحال کریں۔










