آگرہ :27 اگست (یواین آئی) امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر عائد 50 فیصد ٹیرف کا اثر آگرہ کے جوتوں کے کاروبار پر نظر آرہا ہے ۔ آگرہ سے ہر سال کروڑوں روپے کے جوتے برآمد کئے جاتے ہیں۔
جوتا فیکٹریز فیڈریشن کے صدر وجے سما نے بتایا کہ اس بار جوتوں کے تقریباً پانچ لاکھ جوڑے بنانے کے آرڈر موصول ہوئے ہیں۔ ٹیرف کی وجہ سے ، آرڈر یا تو منسوخ کیے جا رہے ہیں یا روکے جا رہے ہیں۔ کچھ تاجر امریکہ کو مکمل طور پر برآمد کرتے ہیں۔ آج وہ کارخانے بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔ جوتے بنانے میں استعمال ہونے والے میٹریل فروخت کرنے والے تاجروں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے ۔ امید ہے کہ حکومت جلد کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی۔
جوتوں کے برآمد کنندہ راجیش سہگل کا کہنا تھا کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ امریکہ سے ملنے والے آرڈر کے بعد جوتے بنائے جائیں یا نہیں۔ ابھی آرڈرہولڈ پر کر دئیے ہیں اورآئندہ 20-25 دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔
اگر امریکی ٹیرف جوتوں کی برآمدات کو متاثر کرتا ہے تو یقیناً کاریگر بھی اس سے اچھوتے نہیں رہیں گے ۔ کاریگروں کی روزی روٹی پر بھی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ جوتا کاریگر راکیش نے کہا کہ جب کمپنیوں کے پاس کام نہیں ہوگا تو کاریگروں کے پاس بھی کام نہیں ہوگا۔ کاریگر بے روزگار ہو جائے گا اور گھر بیٹھ جائے گا۔








