جموںکشمیر یونین ٹیریٹری ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اگلے ۴۰گھنٹوں کے دوران وسطی اور جنوبی کشمیر کے اضلاع میں شدید بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے ، جس میں چند خطرناک مقامات پر بادل پھٹنے ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا امکان ہے۔
حکام نے لوگوں کو اپنی جان بچانے کیلئے نالوں ، دریا کے کناروں اور ڈھیلے ڈھانچوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔
’’اتھارٹی نے ایک ایڈوائزری میں کہا ہے ’’اگلے۴۰گھنٹوں میں اننت ناگ ، کولگام ، شوپیاں ، پلوامہ ، گاندربل اور بڈگام کے کئی مقامات پر بھاری بارش/گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ چند کمزور مقامات پر کلاؤڈ برسٹ/فلیش فوڈز/لینڈ سلائیڈنگ کا امکان۔ نالوں/دریا کے کناروں/ڈھیلے ڈھانچوں وغیرہ سے دور رہیں ‘‘۔
اس دوران موسمیات محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جموں وکشمیر میں ۲۵؍اور ۲۶؍اگست کو ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشوں کا امکان ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس دوران صوبہ جموں کے جموں، ریاسی، اودھم پور، سامبہ، کٹھوعہ اور راجوری اضلاع کے کچھ علاقوں میں بھاری بارشوں کا امکان ہے جبکہ پونچھ، رام بن،ڈوڈہ، کشتواڑ اور جنوبی کشمیر کے کچھ علاقوں میں درمیانی سے شدید بارشیں متوقع ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ۲۷سے۲۰؍اگست تک موسم عام طور پر گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے جبکہ اس دوران کہیں کہیں ہلکی بارش ہوسکتی ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ ۳۱؍اگست اور یکم ستمبر کو بھی موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے تاہم اس دوران جموں صوبے میں کہیں کہیں درمیانی درجے سے بھاری بارشیں ہوسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بعد میں ۲سے۵ستمبر تک کہیں کہیں ہلکی بارشوں کا امکان ہے ۔
دریں اثنا جموںکشمیر محکمہ تعلیم نے خراب موسمی حالات کے پیش نظر جموں ڈویژن کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کو ۲۶ ؍اگست تک بند رکھنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔
ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن جموں‘ڈاکٹر نسیم جاوید چودھری کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ طلبہ کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے ۔
حکم نامے کے مطابق جموں کے تمام اضلاع میں اسکول بند رہیں گے تاکہ موسمی خطرات کے دوران کسی قسم کی ناگہانی صورتحال سے بچا جا سکے ۔
حکم نامے میں والدین اور طلبہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ محکمہ کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کریں اور موسم کی بہتری تک احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
اس دوران پولیس نے بتایا کہ پیر کے روز جموں کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں دریائے راوی میں اچانک آنے والے سیلاب میں بہہ جانے کے بعد دو خواتین اور ایک بچے سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد کو بچا لیا گیا۔
محمد صافی (۶۰) ان کی اہلیہ ریشما (۵۰) بیٹی پروینا (۲۸) اور ایک دو سالہ پوتا شاہ پور کانڈی کے قریب اچانک آنے والے سیلاب میں پھنس گئے۔
پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ سیلاب پہاڑی علاقوں میں شدید بارش کی وجہ سے آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لکھن پور کے تھین گاؤں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو کٹھوعہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شوبھت سکسینا کی قیادت میں ایک مشترکہ کارروائی میں بچایا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ جموں کشمیر پولیس ، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں ، پنجاب پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر کارروائی میں لگ گئی۔
پولیس نے عوام کو آبی ذخائر سے دور رہنے کا مشورہ دیا کیونکہ مسلسل بارشوں کی وجہ سے پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔










