جموںکشمیر پولیس نے وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں قتل کے معاملے کو۴۸گھنٹوں میں ہی حل کرکے بڑی بہن کو اپنی ہی چھوٹی بہن کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے ۔
واضح رہے کہ گاندربل کے سہ پورہ علاقے میں اتوار کی صبح ایک کمسن بچی کی لاش بر آمد ہوئی تھی جس سے پورے علاقے میں سنسی کا ماحول پھیل گیا تھا اور علاقے کے لوگوں نے اس دل دہلا دینے واقعے کے خلاف احتجاج درج کیا تھا۔
ایس ایس پی گاندربل خلیل پوسوال نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو۱۷؍اگست کو ایک اطلاع موصول ہوئی کہ سہہ پورہ بٹہ سر میں ایک بچی بے ہوش پڑی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس اسٹیشن کھیر بھوانی کی ایک پولیس ٹیم کو جائے موقع پر بھیجا گیا جہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ بچی انتقال کر گئی ہے اور اس کی لاش کو بر آمد کرکے ایک ایف آئی آر زیر رجسٹریشن نمبر۲۰۲۵/۲۹درج کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ کیس کی تحقیقات کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی اور بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ۱۰۳کے تحت ایک مقدمہ درج کیا۔
پوسوال نے کہا کہ جائے موقع کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے سری نگر سے فارنسک ماہرین کی ایک ٹیم کو بلایا گیا اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ایس ایس پی نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات میں دو لڑکیوں کے اغوا کا امکان ظاہر کیا گیا تھا،جن میں سے ایک بعد میں مردہ پائی گئی تاہم جیسے جیسے تکنیکی ڈیٹا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے تجزیہ سمیت تفتیش آگے بڑھی تو یہ کہانی کہیں پر بھی ثابت نہیں ہوئی اور بڑی بہن نے جو بیان دیا وہ بھی کہیں حقائق کے ساتھ مل نہیں رہا تھا۔
پولیس افسر کا کہنا تھا کہ بڑی بہن کا بھی اسی وقت میڈیکل چیک اپ کرایا گیا اوراس نے اپنے ایک رشتہ دار کے ہاں کپڑے بدل دئے تھے جن کو بعد میں بر آمد کیا گیا اور ان کپڑوں پر خون کے دھبے تھے نیز مقتولہ کے ہاتھوں میں بال تھے ، جو بڑی بہن کے تھے جن کو فارنسک ماہرین نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے ۔
پوسوال نے کہا’’بڑی بہن نے پہلے تفتیش کے دوران ادھر ادھر گھمایا اور ایک شخص کا نام بھی دیا لیکن جب اس کی ٹاور لوکیشن چک کی گئی تو وہ دو دنوں سے وہاں نہیں تھا‘‘۔انہوں نے کہا’’مزید تفتیش کے دوران بڑی بہن نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی بہن کے ساتھ کھیت پر، جہاں وہ اپنی ماں کی گھڑی ڈھونڈنے گئی تھیں ، گئی تھی، دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا، پہلے ایک دوسرے کو مکے مارے ، بڑی بہن نے پھر وہاں پڑا ایک لکڑی کا ڈنڈا اٹھایا اور اسی سے چھوٹی بہن کے سر پر مارا جس سے وہ بے ہوش ہوگئی،پھر دوبارہ مارا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور وہ موقع پر ہی فوت ہوگئی‘‘۔
ایس ایس پی کا کہنا تھا’’اس انکشاف پر ہم نے مجسٹریٹ کی موجودگی میں اس ڈنڈے کو بر آمد کیا جس پر خون کے نشان موجود ہیں‘‘۔
پوسوال نے کہا کہ اس واقعے میں بڑی بہن ملوث ہے جس کو گرفتار کیا گیا اور ہماری خصوصی تحقیقاتی ٹیم مزید تحقیقات کر رہی ہے اور ملزمہ کو عدالت میں پیش کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کیس کی تحقیقات کے دوران فارنسک ماہرین، مجسٹریٹ اور والدین کو ساتھ رکھا گیا اور ساتھ ساتھ ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی بھی کی گئی۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا’’دونوں تند مزاج تھیں اور معمولی چیزوں پر لڑتی جھڑتی تھیں










