سرینگر/
مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ کے دور میں بھی کتابوں کی اہمیت برقرار ہے ۔ کشمیری، گوجری و دیگر مقامی زبانوں کو دیگر زبانوں میں ترجمہ کرکے ان کی وسعت کو ممکن بنایا جائے گا۔
مرکزی وزیر تعلیم یہاں چنار کتاب میلہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کر رہے تھے ۔
پردھان نے کہا کہ نیشنل بُک ٹرسٹ (این بی ٹی) اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) مل کر مختلف ریاستوں میں اسی طرز کے کتابی میلوں کا انعقاد کر رہے ہیں تاکہ مطالعہ کے کلچر کو فروغ دیا جا سکے ۔
وزیر تعلیم نے کہا’’صدیوں سے کتابوں کی ایک الگ اہمیت رہی ہے ، اور آج بھی لوگ کتابوں کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے باوجود مطالعہ کا ذوق زندہ ہے ، جو ایک خوش آئند پہلو ہے ‘‘۔
پردھان نے مزید کہا کہ کشمیر نہ صرف ملک کا تاج ہے بلکہ یہاں کے لوگ علم و ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اسی لیے یہاں کتاب میلے جیسے علمی و ثقافتی پروگراموں کا انعقاد ضروری ہے ۔
مرکزی وزیر تعلیم نے بتایا کہ جموںکشمیر میں مرکزی حکومت کی مختلف اسکیمیں لاگو کی جا رہی ہیں، جن سے ریاست میں خوشحالی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہورہی ہے ، سیاحت کا شعبہ فروغ پا رہا ہے اور مقامی کاروبار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔
ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا’’۲۰۱۹سے قبل یہاں کے لوگوں کو مکمل نمائندگی حاصل نہیں تھی، لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے لئے گئے فیصلوں کے نتیجے میں آج جموں و کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہے ‘‘۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت جموں و کشمیر کے عوام کے لیے روشن مستقبل یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ۲۰۱۹ میں آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں جمہوری عمل آہستہ آہستہ بحال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا’’جموں کشمیر میں کئی ایسے کام ہو رہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے۔ جمہوری نظام برسوں بعد بحال ہوا ہے۔ غریبوں اور پسماندہ طبقات کے لیے متعدد اسکیمیں اور قوانین، جو پہلے یہاں نافذ نہیں ہوتے تھے، اب عوام کو فائدہ پہنچا رہے ہیں‘‘۔
بعد ازاںصحافیوں سے بات کرتے ہوئے پردھان نے نشاندہی کی کہ آرٹیکل ۳۷۰ کے خاتمے سے قبل جموں و کشمیر میں کئی برسوں تک مقامی انتخابات نہیں ہوئے تھے۔انہوں نے کہا’’عوام کی نچلی سطح پر نمائندگی کا فقدان تھا، مگر اب آہستہ آہستہ جمہوری نظام بحال ہو رہا ہے‘‘۔
پردھان نے کہا کہ وادی میں معمولاتِ زندگی کی بحالی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاحت کا شعبہ بہتری کی طرف گامزن ہے، مقامی کاروبار مستحکم ہو رہے ہیں، اور نظام کے آگے بڑھنے سے جموں و کشمیر کی خوشحالی یقینی بنے گی۔
مرکزی وزیر تعلیم نے اعلان کیا کہ جموں و کشمیر میں لائبریری تحریک کو فروغ دینے کے لیے نیشنل بْک ٹرسٹ (این بی ٹی) مرکز کی مختلف اسکیموں کو نافذ کرے گا۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سال کے چنار فیسٹیول تک جموں و کشمیر کی مقامی زبانوں میں کتابوں کا ترجمہ ملک کی دیگر زبانوں میں کیا جائے گا۔
پردھان نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ چنار بک فیسٹیول کو ایک مستقل سالانہ تقریب بنانے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں بھی کتابیں نئی نسل کو اپنی طرف مائل کرنے کی غیر معمولی طاقت رکھتی ہیں، اور یہی فیسٹیول اس کا ثبوت ہے۔










