’ آج عالمی ادارے اور معیشت دان بھارت کو عالمی معیشت میں امید کی کرن قرار دے رہے ہیں‘
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر//
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی برآمدات پر ۲۵ فیصد ٹیرف اور روس سے توانائی کی خریداری کے باعث کسی نامعلوم’جرمانے‘ کے اعلان کے ایک دن بعد، بھارت کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت اس فیصلے کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے اور قومی مفاد کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دیے گئے اپنے از خود بیان میں گوئل نے کہا کہ حکومت ان ٹیرف کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہی ہے اور کسانوں، برآمد کنندگان، ایم ایس ایم ایز اور صنعتوں سمیت تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کر رہی ہے۔
گوئل نے کہا’’حکومت ہمارے کسانوں، مزدوروں، کاروباری افراد، برآمد کنندگان، ایم ایس ایم ایز اور صنعت کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود کے تحفظ اور فروغ کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ ہم قومی مفاد کے تحفظ اور فروغ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے‘‘۔
مرکزی وزیر تجارت نے مزید کہا کہ حالیہ پیش رفت کے مضمرات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور وزارت متعلقہ فریقین سے صورتحال کا تجزیہ لینے کے لیے مسلسل رابطے میں ہے۔
بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے یکم اگست سے ہندوستان سے آنے والی تمام اشیاء پر ۲۵ فیصد درآمدی ڈیوٹی کے نفاذ کا اعلان کیا، اس کے ساتھ ساتھ روس سے خام تیل اور دفاعی سامان کی خریداری پر ایک غیر معینہ جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔
یہ غیر متوقع اعلان ایسے وقت پر آیا ہے جب امریکی تجارتی وفد۲۵ ؍اگست سے ہندوستان کے دورے پر آ رہا ہے تاکہ مجوزہ دو طرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے) کے چھٹے دور کی بات چیت کی جا سکے۔
گوئل کے بیانات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ہندوستان نے زرعی اور ڈیری شعبے میں امریکہ کو محصولات میں رعایت دینے کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے، جو کہ امریکہ کا ایک کلیدی مطالبہ ہے۔
دوسری جانب، ہندوستان خود بھی امریکی منڈی میں زیورات، آٹو پرزہ جات اور دیگر محنت کش صنعتوں کے لیے درآمدی محصولات میں نرمی کا خواہاں ہے۔
مارچ ۲۰۲۵ سے دونوں ممالک ایک ’منصفانہ، متوازن اور باہمی فائدہ مند‘دو طرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں، جس کا ہدف۲۰۳۰ تک دو طرفہ تجارت کو ۱۹۱ بلین ڈالر سے بڑھا کر۵۰۰ بلین ڈالر کرنا ہے۔ اب تک اس معاہدے کے پانچ دور مکمل ہو چکے ہیں۔
چھٹے دور کی بات چیت کے لیے امریکی وفد ۲۵؍ اگست کو بھارت کا دورہ کرے گا۔ دونوں فریقین رواں سال اکتوبر-نومبر تک اس معاہدے کے پہلے مرحلے کو مکمل کرنے اور ایک عبوری معاہدے پر پہنچنے کی امید کر رہے ہیں۔
گوئل نے مزید کہا کہ صرف ایک دہائی کے عرصے میں ہندوستان نے ’فریجائل۵‘ کی فہرست سے نکل کر دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہو گیا ہے۔
ان کاکہنا تھا’’ہم۱۱ویں بڑی معیشت سے ترقی کرتے ہوئے اب دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہ کامیابی ہماری اصلاحات، کسانوں، ایم ایس ایم ایز اور کاروباری افراد کی محنت کا نتیجہ ہے۔ آئندہ چند برسوں میں ہم دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے جا رہے ہیں‘‘۔
مرکزی وزیر تجارت نے کہا کہ آج عالمی ادارے اور معیشت دان بھارت کو عالمی معیشت میں امید کی کرن قرار دے رہے ہیں، اور عالمی ترقی میں بھارت کا حصہ ۱۶ فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
ادھر صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر بھارت اور روس کے قریبی تعلقات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا’’مجھے پروا نہیں بھارت روس کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ وہ چاہیں تو اپنی مردہ معیشتوں کو ساتھ لے کر ڈوب سکتے ہیں، مجھے اس کی کوئی فکر نہیں‘‘۔
ٹرمپ نے مزید کہا ’’ہمارا بھارت کے ساتھ بہت کم کاروبار رہا ہے کیونکہ ان کے ٹیرف دنیا میں سب سے زیادہ ہیں‘‘۔
گوئل نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں حکومت نے بھارت کو دنیا کا مینوفیکچرنگ حب بنانے کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں، جس کی قیادت’میک ان انڈیا‘ منصوبے نے کی ہے۔
ان کاکہنا تھا’’ہندوستان کے نوجوان، ہنر مند اور باصلاحیت افراد صنعت کو جدت اور مسابقت کی نئی راہوں پر گامزن کر رہے ہیں۔ پچھلے ۱۱ برسوں میں ہماری برآمدات مسلسل بڑھی ہیں‘‘۔
گوئل نے یہ بھی بتایا کہ ایک تحفظ پسند عالمی ماحول میں بھی بھارت نے متحدہ عرب امارات، برطانیہ، آسٹریلیا اور ای ایف ٹی اے ممالک کے ساتھ باہمی فائدے مند تجارتی معاہدے کیے ہیں۔
ان کاکہنا تھا’’ہم دیگر ممالک کے ساتھ بھی اسی طرح کے تجارتی معاہدوں کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم کسانوں کی فلاح و بہبود، بھارتی زراعت کی ترقی، خوشحالی اور خوراک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔‘‘










