سرینگر//
۲۰۲۵ کی سالانہ امرناتھ یاترا نے ایک نیا سنگ میل عبور کرتے ہوئے چار لاکھ یاتریوں کی تعداد پار کر لی ہے۔
جمعرات کو بالتل بیس کیمپ سے یاتریوں کو مقدس غار کی جانب روانگی کی اجازت دی گئی، جس کے بعد یہ روحانی سفر اپنے عروج پر پہنچ گیا۔
جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، جو شری امرناتھ جی شرائن بورڈ (ایس اے اے بی) کے چیئرمین بھی ہیں، نے یہ اطلاع سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کی۔
سنہا نے لکھا’’بابا امرناتھ ناممکن کو ممکن بناتے ہیں۔ ان کے آشیرواد سے آج یہ مقدس یاترا ۴ لاکھ کی تعداد عبور کر گئی ہے۔ میں بھگوان شیو کو سجدہ کرتا ہوں اور اس الہیٰ سفر کو ممکن بنانے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ یہ خدائی سفر ناقابلِ موازنہ ہے، نہ صرف اس لیے کہ یہ کٹھن اور مشکل ہے بلکہ اس لیے کہ یہ ’خالص مسرت کا لاجواب سفر‘ ہے۔
سنہا کا کہنا تھا’’یہ ایک روحانی تجربہ ہے، جو عقیدت مندوں کو خود کو جاننے، بھروسہ کرنے، اور دلوں کو شکرگزاری سے بھرنے کا موقع فراہم کرتا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ریکارڈ تعداد میں درشن اور ملک و بیرون ملک سے عقیدت مندوں کی آمد بھارت کی وحدت اور چیلنجز پر قابو پانے کے عزم کی علامت ہے۔
ایل جی نے لکھا’’میں ان تمام عقیدت مندوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے بھروسہ دکھایا اور ہماری قیمتی روحانی وراثت کو مضبوط کیا‘‘۔
گھپا کا یہ مقام سطح سمندر سے۳۸۸۸میٹر بلندی پر واقع ہے اور وہاں برف سے بنی ہوئی قدرتی شیو لنگ کی موجودگی مانی جاتی ہے، جو چاند کے مختلف مراحل کے ساتھ گھٹتی اور بڑھتی رہتی ہے۔
عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ یہ برفانی شیو لنگ بھگوان شیو کی الوہی طاقتوں کی علامت ہے۔
خراب موسمی حالات کے پیش نظر جمعرات کو جموں سے امرناتھ یاترا معطل رہی۔
جموں کے ڈویڑنل کمشنر رمیش کمار نے کہا’’یاترا راستوں پر خراب موسم کے پیش نظر احتیاطی تدبیر کے طور پر ۳۱ جولائی کو جموں کے بھگوتی نگر سے امرناتھ یاترا قافلے کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔
کمار نے مزید بتایا کہ یاترا کے علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث کشمیر میں قائم بیس کیمپس سے یاتریوں کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی ہے۔
جموں کے صوبائی کمشنر نے کہا’’اسی لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ۳۱ جولائی کو بھگوتی نگر، جموں سے بال ٹال اور نونون بیس کیمپس کی طرف کوئی قافلہ روانہ نہیں ہوگا‘‘۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث یاتریوں کو احتیاط برتنے اور حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
یہ سالانہ یاترا ۳؍ جولائی کو شروع ہوئی تھی اور۹ اگست کو’شراون پورنیما‘ اور’رکشا بندھن‘ کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔اس سال چار لاکھ سے زائد یاتریوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ عقیدے نے دہشت گردی پر فتح حاصل کی ہے۔










