(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر//
جموں کشمیر میں سکیورٹی فورسز نے آج پہلگام حملے کا بدلہ لے لیا‘ جب سری نگر میں ایک انکاؤنٹر کے دوران حملے کے ماسٹر مائنڈ سلیمان شاہ عرف ہاشم موسیٰ کو مار گرایا گیا۔
یہ کارروائی’آپریشن مہادیو‘کے نام سے کی گئی، جس میں تین دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ اس انکاؤنٹر کی منصوبہ بندی کئی دنوں تک نہایت باریکی سے کی گئی تھی۔
این ڈی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سلیمان شاہ، لشکرِ طیبہ کا دہشت گرد اور پاکستان آرمی کی ایلیٹ یونٹ اسپیشل سروس گروپ کا سابق کمانڈو تھا۔ بعد میں وہ اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد دہشت گرد حافظ سعید کے گروہ لشکرِ طیبہ سے جا ملا تاکہ دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دے سکے،
یہ آپریشن جموں کشمیر کے سرینگر میں واقع مہادیو پیک کے نام پر رکھا گیا تھا۔ دہشت گرد مہادیو پیک کے دامن میں گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق فورسز ان پر جسمانی اور الیکٹرانک نگرانی کر رہے تھے‘جب انہیں جولائی کے آغاز میں مشتبہ مواصلات کی اطلاع ملی۔
فورسز کو چینی ساختہ الٹرا ریڈیو کمیونیکیشن کے سرگرم ہونے کا پتا چلا، جس کے بعد کارروائی کی گئی۔ لشکرِ طیبہ انکرپٹڈ پیغامات کے لیے چینی ریڈیو کا استعمال کرتی ہے۔ فورسز نے داچھی گام کے جنگلات پر توجہ مرکوز کی، جنہیں پہلگام دہشت گردوں کا ممکنہ ٹھکانہ سمجھا جا رہا تھا۔ یہ علاقہ بلندی پر واقع ہے اور دہشت گرد مبینہ طور پر جنگلاتی جنگ کی تربیت یافتہ تھے۔
سکیورٹی فورسز نے لشکر اور جیش کے دہشت گردوں کا ۱۴ دن تک تعاقب کیا، تب جا کر آپریشن کو انجام دیا گیا۔ تمام دہشت گرد ’ہائی ویلیو‘ ٹارگٹس اور غیر ملکی شہری تھے۔ اطلاعات کے مطابق فورسز نے ایک خفیہ اطلاع پر سری نگر کے ہارون علاقے کے ملنار میں کارروائی کی۔
این ڈی ٹی وی نے دہشت گردوں کے اس ٹھکانے کی تصویر بھی حاصل کی ہے جسے آپریشن مہادیو کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنگل کے بیچوں بیچ واقع اس ٹھکانے سے متعدد ہتھیار موجود تھے۔ رپورٹ کے مطابق، کاربائن اور اے کے ۴۷ رائفلز‘۱۷ رائفل گرنیڈز اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا۔ سیکیورٹی فورسز کو شبہ ہے کہ دہشت گرد جموں و کشمیر میں بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
سلیمان شاہ، لشکرِ طیبہ کا دہشت گرد اور پاکستان آرمی کی اسپیشل سروس گروپ کا سابق کمانڈو، حافظ سعید کے گروہ میں شامل ہو کر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا۔ اس کی ہلاکت کو فورسز کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔ پہلگام حملے کے بعد، جموں و کشمیر پولیس نے سلیمان کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے ۲۰ لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔
سلیمان نے ستمبر ۲۰۲۳ میں بھارت میں دراندازی کی اور جنوبی کشمیر میں دہشت گرد سرگرمیاں شروع کیں۔ اکتوبر ۲۰۲۴ میں اس نے ایک حملے کی قیادت کی جس میں سات عام شہری اس وقت مارے گئے جب دہشت گردوں نے ایک کیمپ پر فائرنگ کی جہاں ایک نجی کمپنی کے مزدور سرنگ تعمیر کر رہے تھے۔
وہ بارہمولہ میں ایک حملے میں بھی ملوث تھا جس میں چار سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ سیکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ کم از کم چھ دہشت گرد حملوں میں شامل تھا۔ پہلگام حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے اس کی تلاش کے لیے گھر گھر تلاشی لی۔
۶؍اور۷ مئی کی درمیانی رات کو بھارت نے پہلگام حملے کے جواب میں پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں دہشت گردی کے ڈھانچوں پر رات ایک بجے کے قریب ہدفی حملے کیے۔ بھارت نے ان حملوں میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد ہو رہا تھا۔ ان حملوں کا کوڈ نام ’آپریشن سندور‘ رکھا گیا… ان عورتوں کی قربانی کو خراجِ تحسین جنہوں نے پہلگام حملے میں اپنے شوہر کھو دیے۔
بھارت کے جوابی حملوں کا مقصد لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد، حزب المجاہدین اور دیگر نیٹ ورکس کی لاجسٹیکل، عملیاتی اور تربیتی صلاحیتوں کو تباہ کرنا تھا۔ان نو مقامات میں سے ہر ایک کا تعلق کسی نہ کسی بڑے دہشت گرد منصوبے یا بھارت پر دراندازی کی کوشش سے رہا ہے۔
ان میں ایک مقام ’مریِدکے‘ ہے جو لشکرِ طیبہ کا ہیڈکوارٹر ہے اور حافظ سعید کا مرکز ہے، جبکہ دوسرا مقام بہاولپور ہے، جو پاکستان کے پنجاب صوبے میں جیشِ محمد کا مرکز ہے جس کی قیادت مسعود اظہر کرتا ہے۔










