سرینگر//
جموں کشمیر حکومت نے چھ ڈاکٹروں پر ڈیوٹی اوقات کے دوران نجی پریکٹس کرنے اور غیر اخلاقی طور پر مریضوں کو نجی ہسپتالوں کی جانب ریفر کرنے کے الزامات میں پابندی عائد کر دی ہے ۔
یہ کارروائی محکمہ صحت و طبی تعلیم کی جانب سے جاری ایک سرکاری حکم نامے کے تحت عمل میں لائی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ آیوشمان بھارت ، پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا صحت اسکیم کے تحت ریاستی صحت ایجنسی کی جانب سے کی گئی جانچ میں ان ڈاکٹروں کی خلاف ورزیاں ثابت ہوئیں۔
حکمنامے کے مطابق، درج ذیل تین ڈاکٹروں کو ڈیوٹی کے دوران نجی پریکٹس کرتے ہوئے پایا گیا:ڈاکٹر بلال احمد بشیر (کنسلٹنٹ سرجن، جی ایم سی اننت ناگ)‘۳۱۲کیسز،ڈاکٹر اسحاق (میڈیکل آفیسر، ضلع اسپتال پلوامہ):۱۷۰کیسز،ڈاکٹر یونس کمال (ایسوسی ایٹ پروفیسر آرتھوپیڈکس‘ جی ایم سی اننت ناگ):۱۸۵ کیسزجبکہ تین دیگر ڈاکٹروں کو غیر اخلاقی طور پر نجی اسپتالوں کی طرف مریضوں کو ریفر کرنے کا مرتکب پایا گیا:ڈاکٹر وکاس گپتا (میڈیکل آفیسر، سی ایچ سی ہیرا نگر):۱۹ کیسز،ڈاکٹر منجو کماری (میڈیکل آفیسر، ای ایچ وجے پور):۱۸کیسز،ڈاکٹر راج کمار بھاگت (میڈیکل آفیسر، ضلع اسپتال سامبا):۱۲کیسز۔
حکومت کے مطابق ان ڈاکٹروں کی نجی سرگرمیاں حکومتی خدمات میں ان کی شراکت سے کہیں زیادہ تھیں جس سے آیوشمان بھارت / صحت اسکیم کے مقاصد کو شدید نقصان پہنچا۔
محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ ایسے اقدامات برداشت نہیں کیے جائیں گے اور اسکیم کے شفاف نفاذ کے لیے مزید سخت کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔










