(ویب ڈیسک)
سرینگر//
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پیر کو لوک سبھا میں اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے پہلگام دہشت گرد حملے کے ردعمل میں شروع کیے گئے آپریشن سندور کی کامیابی پر سوالات اٹھائے تھے۔
راجناتھ سنگھ نے مانسون اجلاس کے دوران آپریشن سندور پر ہوئی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ’’اپوزیشن کے کچھ اراکین پوچھ رہے ہیں کہ ہمارے کتنے طیارے مار گرائے گئے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوال قومی جذبات کی صحیح نمائندگی نہیں کرتا۔ انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ ہماری مسلح افواج نے کتنے دشمن طیارے مار گرائے‘‘۔
سنگھ نے کہا کہ ایسی بحث کا مرکز بھارتی افواج کی کامیابیوں پر ہونا چاہیے۔ان کاکہنا تھا’’اگر سوال پوچھنا ہی ہے تو یہ پوچھا جائے کہ کیا بھارت نے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے؟ اور اس کا جواب ہے … ہاں‘‘۔
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کی کامیابی اور درستگی کو سراہتے ہوئے مزید کہا’’اگر سوال کرنا ہے تو یہ ہونا چاہیے:کیا آپریشن سندور کامیاب رہا؟ جواب ہے ہاں۔ کیا دہشت گردوں کے سرغنہ مارے گئے؟ ہاں۔ اگر سوال کرنا ہے تو یہ کریں:کیا ہمارے کسی بہادر سپاہی کو نقصان پہنچا؟ جواب ہے، نہیں۔ ہمارے کسی سپاہی کو نقصان نہیں پہنچا‘‘۔
وزیر دفاع نے اپوزیشن سے مسلح افواج کی تعریف کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا’’اپوزیشن سے بھی کہوں گا، کم از کم اب تو ہماری مسلح افواج کے لیے تالیاں بجا دیں‘‘۔انہوں نے فخر کے ساتھ کہا’’ہماری دفاعی نظام، ڈرون مخالف سسٹمز اور الیکٹرانک آلات نے پاکستان کے حملے کو مکمل طور پر ناکام بنایا۔ پاکستان ہمارے کسی ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا، اور کوئی اہم اثاثہ تباہ نہیں ہوا۔ اس کے لیے میں ہماری بہادر افواج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے دشمن کے ہر منصوبے پر پانی پھیر دیا‘‘۔
سنگھ نے بتایا کہ آپریشن کے دوران پاکستان کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں چکلالہ، سرگودھا، رفیقی، رحیم یار خان، جیکب آباد اور دیگر شامل ہیں‘‘۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ آپریشن سندور پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد شروع کیا گیا، جس میں ۲۲؍اپریل کو۲۶ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ بھارت نے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر اور پاکستان کے اندر نو دہشت گرد ٹھکانوں پر حملہ کیا اور۱۰۰ سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔۷مئی کو ہونے والے آپریشن کے بعد، بھارت اور پاکستان نے ۱۰مئی کو سیز فائر پر اتفاق کیا۔
راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت کے فضائی دفاعی نظام … جن میں ایس ۴۰۰‘آکاش میزائل سسٹمز، اور فضائی دفاعی توپیں شامل ہیں ‘ نے پاکستان کے فضائی حملوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سنگھ نے ایک بار پھر ایوان کو یقین دلایا کہ یہ انسداد دہشت گردی آپریشن کامیاب رہا اور مسلح افواج نے اپنے تمام اہداف حاصل کیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے۷ مئی سے لے کر۱۰ مئی کی صبح۲۵:۱بجے تک کئی مرتبہ بھارت پر میزائل، ڈرون اور دیگر ہتھیاروں سے حملے کیے۔
راجناتھ سنگھ نے کہا’’ہمارے تمام اقدامات مکمل طور پر دفاعی نوعیت کے تھے، نہ کہ اشتعال انگیز یا توسیع پسندانہ۔ لیکن اس کے باوجود، ۱۰ مئی ۲۰۲۵ کو رات تقریباً ۳۰:۱بجے پاکستان نے بڑے پیمانے پر حملہ کر دیا، جس میں میزائل، ڈرونز، راکٹس اور دیگر طویل فاصلے کے ہتھیار استعمال کیے گئے‘‘۔
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پیر کو لوک سبھا میں بتایا کہ ۷مئی کی صبح تقریباً ۳۵:۱ بجے، بھارتی ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) نے پاکستان کے ہم منصب کو ہاٹ لائن پر کال کی۔
راجناتھ سنگھ نے ایوان کو بتایا’’ہمارے ڈی جی ایم او نے پاکستانی ڈی جی ایم او کو آپریشن سندور کی وجوہات اور طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ حملے اشتعال انگیز نہیں تھے اور ہم ان کارروائیوں کو مزید آگے بڑھانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے‘‘۔
وزیر دفاع نے مزید کہا’’ پاکستان نے ہماری بات کو سمجھنے سے انکار کر دیا۔ بعد کے دنوں میں پاکستان نے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہمارے شہری اور فوجی علاقوں پر حملے کیے‘‘۔
راجناتھ سنگھ نے بھارت کے اس کارروائی کو رامائن کے واقعہ سے تشبیہ دی، جس میں بھگوان ہنومان نے راون کی لنکا کو آگ لگائی تھی۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بھی اس موقع پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اسی واقعے کا ذکر کیا تھا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا’’پہلگام میں۲۶ لوگوں کی جان لینے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی مکمل طور پر دفاعی اور انتقامی تھی۔ ہم نے خاص طور پر اس بات کا خیال رکھا کہ پاکستان میں عام شہریوں کے علاقے متاثر نہ ہوں۔ ہمارا مقصد صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا تھا۔ مجھے فخر ہے کہ ہماری افواج نے نہ صرف صلاحیت کا مظاہرہ کیا بلکہ کامیابی بھی حاصل کی‘‘۔
راجناتھ سنگھ نے اعلان کیا کہ پاکستان کی جوابی فائرنگ اور ڈرون حملوں کے باوجود بھارت کے کسی بھی اہم اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا۔
آپریشن سندور ۷مئی کی صبح۰۵:۱سے۳۰:۱ کے درمیان انجام دیا گیا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کوئی تنازعہ نہیں ہے، یہ تہذیب اور بربریت کا ٹکراؤ ہے، اگر کوئی ہماری خودمختاری کو نقصان پہنچاتا ہے تو اسے منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔انھوں نے کہا ’’ ہماری بنیادی فطرت بدھ کی ہے جنگ کی نہیں۔ ہم آج بھی کہتے ہیں کہ ایک خوشحال پاکستان ہمارے مفاد میں ہے‘‘۔
وزیر دفاع نے کہا’’نریندر مودی حکومت کا موقف واضح ہے مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘‘۔انھوں نے کہا کہ ’وزیرِ اعظم مودی نے بھی کہا ہے کہ آپریشن سندور رک گیا ہے، لیکن ختم نہیں ہوا، اگر پاکستان نے دوبارہ کچھ کیا تو ہم اس سے بھی زیادہ سخت کارروائی کریں گے۔‘
سنگھ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے ذہن میں ایک غلط فہمی تھی، ہم نے اسے آپریشن سندور کے ذریعے دور کیا، اگر کچھ رہ گیا تو اسے بھی دور کر دیں گے۔‘
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’ہماری حکومت نے پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے بھی بہت کوششیں کی ہیں لیکن بعد میں سنہ۲۰۱۶ کے سرجیکل سٹرائیک، ۲۰۱۹ کے بالاکوٹ ایئر سٹرائیک اور ۲۰۲۵ میں آپریشن سندور کے ذریعے، ہم نے امن قائم کرنے کے لیے ایک اور راستہ اپنایا ہے۔‘
راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ’ہماری پالیسی بھگوان رام اور بھگوان کرشن سے متاثر ہے، جو ہمیں بہادری اور صبر دونوں کا درس دیتے ہیں۔ ہماری پالیسی واضح ہے۔’پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی پاگل پن نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ یہ ایک ٹول کٹ ہے جسے پاکستان اور اس کی ایجنسیوں نے بطور پالیسی اپنا ہے۔‘










