سرینگر///
جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بدھ کے روز ڈپٹی چیف ایجوکیشن آفیسر (ڈپٹی سی ای او) کے دفتر کی منتقلی کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی، جس دوران تمام تجارتی مراکز بند رہے ۔
یہ ہڑتال آل پارٹی کونسل کے بینر تلے کی گئی، جو حال ہی میں مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں بشمول پی ڈی پی، بی جے پی، جے ڈی (یو)، اپنی پارٹی، پیپلز کانفرنس اور کیمیکل و پیسٹی سائیڈ ایسوسی ایشن پر مشتمل ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر قائم کی گئی ہے ۔
احتجاج کی وجہ وہ سرکاری حکم نامہ ہے ، جس کے تحت ڈپٹی سی ای او کا دفتر شوپیاں قصبے سے ہٹا کر چترگام منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
چترگام حالیہ اسمبلی انتخابات میں زینہ پورہ حلقہ سے نیشنل کانفرنس کے امیدوار شوکت حسین گنائی کا آبائی علاقہ ہے ، جنہوں نے اس نشست پر کامیابی حاصل کی۔
شوپیاں اور زینہ پورہ حلقوں کے عوام نے اس فیصلے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مبینہ طور پر سیاسی اثرورسوخ پر مبنی اور عام شہریوں کے لیے تکلیف دہ قرار دیا ہے ۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور ڈپٹی سی ای او کا دفتر دوبارہ شوپیاں کے منی سیکریٹریٹ میں قائم کیا جائے ۔
قابل ذکر ہے کہ شوپیاں حلقے سے آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہونے والے ایڈووکیٹ شبیر احمد اور دیگر سیاسی نمائندوں نے آل پارٹی کونسل کے تحت اس احتجاج کو منظم کرنے میں سرگرم کردار ادا کیا۔
علاقے میں حالات قابو میں ہیں تاہم عوامی سطح پر بے چینی پائی جا رہی ہے ، اور اگر مطالبات کو فوری طور پر پورا نہ کیا گیا تو احتجاج میں مزید شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔










