سرینگر//
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوائی رواں ہفتے اپنے عہدے کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار جموں و کشمیر کا دورہ کریں گے ۔
ان کی یہ آمد۲۶؍اور۲۷جولائی کو سرینگر میں منعقد ہونے والی نارتھ زون ریجنل لیگل کانفرنس کے سلسلے میں ہو رہی ہے ، جس میں ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے ۲۵نامور ججز شرکت کریں گے ۔
یہ دو روزہ کانفرنس نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی اور ہائی کورٹ آف جموں و کشمیر و لداخ کے باہمی اشتراک سے ایس کے آئی سی سی، سری نگر میں منعقد کی جا رہی ہے ۔
تقریب میں سپریم کورٹ کے۶ججوں‘۵مختلف ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور ریاستی و مرکزی سطح کی لیگل سروسز اتھارٹیز کے اعلیٰ نمائندے شریک ہوں گے ۔
کانفرنس میں مرکزی وزیر قانون، ارجن رام میگھوال کی شرکت بھی متوقع ہے ۔ اس کے علاوہ چیف جسٹس آف جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ جسٹس ارون پلی اور دیگر معزز ججز بھی کانفرنس کا حصہ ہوں گے ۔
کانفرنس میں شرکت کرنے والے دیگر چیف جسٹس صاحبان میں جسٹس سوریہ کانت،جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس پی ایس نرسمہا، جسٹس راجیش بندل، جسٹس پنکج متھل، اور جسٹس این کوٹیسور سنگھ ،دہلی، پنجاب و ہریانہ، ہماچل پردیش، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے چیف جسٹس صاحبان بھی شرکت کریں گے ۔
افتتاحی اجلاس کے بعد ہارون، سرینگر میں قبائلی طبقے کے لیے لیگل کیمپ کا انعقاد کیا جائے گا۔اس کیمپ میں۱۲مختلف سرکاری محکمے اپنے اسٹالز لگائیں گے تاکہ عوام کو قانونی سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکیں۔
انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف امور جیسے رہائش، استقبالیہ، ٹرانسپورٹ، سیکورٹی، ثقافتی پروگرامز، میڈیا اور بین ضلعی رابطے کے لیے خصوصی سب کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔
چیف جسٹس آف انڈیا کا یہ پہلا دورہ نہ صرف جموں و کشمیر کے لیے ایک باوقار موقع ہے بلکہ اس سے انصاف، قانونی آگاہی اور عوامی رسائی کے عمل کو مزید تقویت ملنے کی امید کی جا رہی ہے ۔
دریں اثنا انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کشمیر زون، وی کے بردی نے بدھ کے روز پولیس کنٹرول روم کشمیر میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں آنے والی دو اہم تقریبات نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی کے زیر اہتمام پروگرامز اور کشمیر یونیورسٹی ایلومنائی میٹ کے لیے سیکورٹی انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
آئی جی پی وی کے بردی نے اجلاس کے دوران کہا کہ ‘این ایل ایس اے ’ کی تقریبات قانونی آگاہی کو فروغ دینے اور انصاف تک عوام کی رسائی بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے ان تقریبات کے دوران سخت چوکسی اور موثر سیکورٹی اقدامات ناگزیر ہیں۔
بردی نے کشمیر یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے ایلومنائی میٹ کو ایک باوقار اور علمی سطح کا اجتماع قرار دیتے ہوئے اس کے لیے بھی مکمل حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
آئی جی پی نے افسران کو ہدایت دی کہ اہم مقامات کے گرد نگرانی کو مزید سخت کیا جائے ، سی سی ٹی وی کوریج کو بڑھایا جائے اور عوام و شرکاء کی آسان نقل و حرکت کے لیے ٹریفک مینجمنٹ پلان کو مؤثر طور پر لاگو کیا جائے ۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دونوں تقریبات نہایت اہمیت کی حامل ہیں اور پولیس و سیکورٹی ادارے تمام شرکاء کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔










