سرینگر//
دن میں جھلستی گرمی‘ جس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ۹ء۳۴ ڈگری سینٹی گریڈ درج ہوا ‘ سرینگر اور وادی کے دوسرے اضلاع کے میدانی علاقوں میں شام کو تیز بارشیں اور ہوائیں شروع ہو ئیں ۔
سرینگر میں مرحلہ وار طور پر تیز بارشیں ہو ئیں جس دوران ہوائیں بھی چلیں جس سے کچھ علاقوں میں درخت اکھڑ گئے جبکہ بجلی کی سپلائی بھی متاثر ہو ئی ۔
محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں اگلے تین دنوں کے دوران رک رک ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشوں کے ساتھ تیز ہوائیں چلنے کی پیش گوئی کی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران جموں وکشمیر میں کہیں کہیں تیز اور شدید بارشیں ہوسکتی ہیں۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ اس دوران کمزور مقامات پر سیلابی ریلے ، لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر کھسکنے کے بھی امکانات ہیں۔
متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی میں ۲۱؍اور۲۲جولائی کو کئی مقامات پر ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشیں ہوسکتی ہیں اور اس دوران تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں جبکہ جموں صوبے میں کہیں کہیں تیز اور بھاری بارشوں کا امکان ہے ۔
ترجمان نے کہا کہ۲۳؍اور۲۴جولائی کو بھی موسم عام طور پر ابر آلود رہنے کے ساتھ موسم کی یہی صورتحال جاری رہ سکتی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ بعد ازاں۲۵سے۲۷جولائی تک موسم گرم اور مرطوب رہ سکتا ہے جبکہ اس دوران کہیں کہیں ہلکی بوندا باندی ہوسکتی ہے ۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں۲۱سے۲۴جولائی تک کہیں کہیں تیز بارشوں کے ساتھ تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس دوران کمزور مقامات پر سیلابی ریلے ، لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر کھسکنے کے بھی امکانات ہیں۔
ایڈوائزری کے مطابق اس دوران دریائوں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بڑھ سکتی ہے اور نشیبی علاقوں میں کہیں کہیں پانی جمعہ ہوسکتا ہے ۔
کسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ۲۱سے ۲۴جولائی تک کاشتکاری سے متعلق سرگرمیاں معطل رکھیں۔
اس دوران جموں خطے میں گزشتہ کئی گھنٹوں سے جاری مسلسل بارش کے نتیجے میں توی ندی میں پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ درج کیا گیا ہے ، جس کے پیش نظر نچلے علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو محتاط رہنے اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر تیار رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جموں شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے ، جس کے سبب دریائے توی سمیت دیگر ندی نالوں میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔
ضلعی انتظامیہ نے ندی کے قریب رہنے والے لوگوں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر ندی کنارے نہ جائیں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ فائر اینڈ ایمرجنسی، ایس ڈی آر ایف اور دیگر متعلقہ محکموں کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے ۔
محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے ایک عہدیدار نے بتایا’توی ندی میں پانی کی سطح میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن فی الحال یہ خطرے کے نشان سے نیچے ہے ۔ تاہم اگر بارش کا سلسلہ اسی شدت کے ساتھ جاری رہا تو صورت حال سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے ‘۔
دریں اثنا، انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی اطلاعات پر یقین کریں۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ بارش کے دوران ندیوں، نالوں اور دیگر آبی ذخائر سے دور رہیں۔










