کیا جموںکشمیر کے سرکاری اسکولوں کے معیار اور کارکردگی میں کبھی بہتری آ سکتی ہے ‘ کیا اس بات کا امکان ہے کہ سالانہ ۱۱ہزار کروڑ روپے ان اسکولوں پر صرف کرنے کے بدلے میں یہ اسکول قوم کا مستقبل بنانے اور سنوارنے میں وہ رول ادا کریں جن کی ان سے توقع ہے ؟
یہ سوال یہاں اس لئے کیا جارہاہے کیونکہ سرکاری اسکولوں کی کا رکردگی میں مجموعی طور پر کوئی سدھار نہیں آرہا ہے ۔استثنیٰ ضرور ہوسکتے ہیں ‘ لیکن مجموعی طور پر ان اسکولوںمیں قوم کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ برابر جاری ہے ۔ ان سکولوں کے اساتذہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں سنجیدہ ہیں اور نہ وہاں زیر تعلیم بچے حصول علم میں کوئی خاص دلچسپی رکھتے ہیں ۔جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بھی کسی جماعت کے نتائج ظاہر کئے جاتے ہیں تو ان اسکولوں کے حوالے سے مایوسی مزید بڑھ جاتی ہے ۔
سنجیدہ فکر حلقے پریشان ہیں کہ آخر ان سرکاری اسکولوں کو کیا مسئلہ درپیش ہے جو ان میں بہتری نہیں آ رہی ہے اور اگر واقعی کوئی مسئلہ ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے اور اس حل کیا ہے ۔نجی اسکولوں کے مقابلے میں سرکاری اسکولوںکو وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے ‘ ان اسکولوں میں تعینات اساتذہ صاحبان کی تعلیمی قابلیت بھی اعلیٰ ہو تی ہے‘ کیونکہ ان کا انتخاب تعلیمی قابلیت پر ہی ہوتا ہے جبکہ تنخواہیں بھی موٹی ہو تی ہیں جو انہیں وقت پر مل جاتی ہیں ۔
اس کے برعکس پرائیویٹ اسکولوں کو وسائل کا مسئلہ درپیش رہتا ہے ‘ اساتذہ بھی اتنے زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہو تے ہیں ‘ ان کی تنخواہیں بھی کم قلیل ہو تی ہیں جن کی ادائیگی تاخیر سے ہوتی ہے ۔لیکن جب نتائج کی بات آتی ہے‘جب کسی مقابلے کا ذکرہوتا ہے تو یہ اسکول بازی مار لیتے ہیں ۔
گزشتہ ہفتے چیف سیکریٹری ‘اتل ڈولونے جموںکشمیر کے سرکاری اسکولوں کی کار کردگی کا ایک اجلاس میں جائزہ لیا ۔ اس اجلاس میں کچھ اہم معلومات پیش کی گئیں جن کا یہاں احاطہ کرنا ضروری ہے۔اجلا س میں بتایا گیا کہ جموں کشمیر میں۲۴ہزار۱۳۷سکول ہیں‘جن میں۱۸ہزار۷۲۴سرکاری اور۵ہزار۴۱۳ نجی و دیگر ہیں۔ان اسکولوں میں۲۶لاکھ۱۷ہزار طلبا تعلیم پا رہے ہیں۔۱۳لاکھ۵۲ ہزار سرکاری اور۱۲لاکھ۶۰ہزار نجی سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
یہ اعداد و شمار بڑے دلچسپ ہیں اور ان سے بہت کچھ عیاں ہو تا ہے ۔ ان ۲۴ہزار اسکولوں میں غالب اکثریت زائد از ۱۸ ہزار سرکاری اسکول کی ہے یعنی ۷۵ فیصد لیکن طلبا کی جتنی تعداد نجی اسکولوں (اسکولوں کی تعداد کا کل ۲۵ فیصد) میں زیر تعلیم ہے اتنی ۷۵ فیصد سرکاری اسکولوں میں بھی ہے ۔
اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سرکاری سکول میں ایک طالب علم پر سالانہ تقریباً ایک لاکھ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں جو قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔
چلئے اس تصویر کا دوسرا پہلو دیکھ لیتے ہیں اور اس کا تعلق سرکاری اسکولوں سے ڈراپ آؤٹ کی شرح میں اضافے سے ہے ۔ یعنی بچے ان اسکولوں کو خیر باد کہہ کر یا تو تعلیم کو بھی خیر باد کہہ رہے ہیں یا پھر نجی اسکولوں میں داخلہ لیتے ہیں ۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ڈراپ آؤٹ کی شرح میں اضافہ ہورہاہے۔پرائمری سطح کے ڈراپ آؤٹ۲۰۲۲۔۲۰۲۳ میں۸۹ء۳ فیصد سے بڑھ کر۲۰۲۳۔۲۰۲۴ میں۸۷ء۸ فیصد ہو گیا ہے۔
اپر پرائمری اسکولوں میں یہ اسی مدت کے دوران ۶۵ء۲ سے بڑھ کر۲۳ء۴ فیصدہوگیا ہے جبکہ سیکنڈر سطح میں یہ شرح۲ء۶ فیصد سے بڑھ کر۰۷ء۹ فیصد ہو گئی۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق جموں کشمیر اب شمالی ہندوستان میں تیسری سب سے زیادہ سکینڈر سطح کے ڈراپ آؤٹ کی شرح کے طور پر ۴ء۱۳ فیصد پر ہے۔زائد از ۱۸ہزار سرکاری اسکولوں میں ۱۱۹ اسکول ایسے ہیں جہاںطلبا کا اندراج صفر ہے لیکن پھر بھی ان اسکولوں میں ۲۳۸ ؍اساتذہ تعینات ہیں۔ جبکہ۸۴۸ اسکولوں میں کوئی نیا اندراج درج نہیں کیا گیا۔ ۴۴۰۰سرکاری اسکول بند یا پھر ضم ہو گئے ہیں کیونکہ وہاں زیر تعلیم بچوں کی حاضری انتہائی کم تھی۔
اجلاس میں چیف سیکریٹری نے کچھ ایسی باتیں کیں ‘ جو کشمیر کا سنجیدہ حلقہ فکر کرتا آیا ہے ‘ لیکن آج تک کوئی جواب نہ مل سکا ۔ ڈولو کاکہنا تھا کہ محکمہ تعلیم کو اپنے سالانہ ۱۱ہزار کروڑ روپے بجٹ کے مطابق تعلیمی نتائج بھی یقینی بنانے ہوں گے۔’’جب تک اساتذہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کرتے، کوئی بھی بنیادی ڈھانچہ یا تکنیکی بہتری فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتی۔تدریس میں اساتذہ کی لگن اور تخلیقی صلاحیت کا کوئی نعم البدل نہیں‘‘۔چیف سیکریٹری نے اساتذہ کی وقت کی پابندی اور جماعتوں میں گزارے گئے وقت کی سخت نگرانی پر زور دیا۔ اُنہوں نے ہدایت دی کہ آئی ٹی ٹولز کا اِستعمال کر کے ان اساتذہ کی نشاندہی کی جائے جو کام میں لاپروائی، تاخیر یا ذاتی کاموں کے لئے سکول سے غیر مجاز غیر حاضری برتتے ہیں۔
والدین اس لئے اپنے بچوں کوسرکاری اسکول سے نکالتے کیونکہ وہاں کوئی احتساب نہیں ہے‘کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ۔ اس کے برعکس نجی اسکول کم از کم حاضری ، وردی ، والدین اور اساتذہ کی میٹنگوں جیسے قوانین کو نافذ کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اساتذہ جو سرکاری اسکولوں میں پڑھاتے ہیں ‘ ان کے اپنے بچے نجی اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں ۔اور یہ ایک بات‘ یہ ایک حقیقت اس بات کا احاطہ کرنے کیلئے کافی ہے کہ سرکاری اسکولوں کو آخر کیا مسئلہ درپیش ہے ۔
مسئلہ وسائل کا ہے اور نہ بنیادی ڈھانچے کے فقدان کا ہے ‘ اصل مسئلہ بھروسے اور اعتماد کا ہے جو یہ اسکول… سرکاری اسکول اپنی ناقص کار کردگی کی بنیاد پر لوگوں کاحاصل نہیں کرپائے ہیں۔





