اب صاحب یہ جو سیاست ہے‘اس میں بھی سیاست ہوتی ہے اور سچ بھی تو یہی ہے کہ اگرسیاست میں سیاست نہیں ہوگی تو… تو کسی میں ہو گی ۔تو اس سیاست میں بھی سیاست ہو رہی ہے اور… اور کانگریس کا ریاستی… جموںکشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی پر سرگرم ہو نا … سر کا گرم ہو نا نہیں بلکہ اس جماعت کا ایکٹیو ہونا بھی سیاست ہی ۔دباؤ میں لانے کی سیاست … دہلی میں مودی جی اور سرینگر میں حکمران جماعت این سی کو ۔ پہلے سرینگر کی بات کرتے ہیں ۔ہفتہ کو سرینگر میں کانگریس سڑکوںپر آئی … ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کے حق میں سڑکوں پر آئی … تاکہ اپنی حلیف جماعت ‘ نیشنل کانفرنس پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ بھی سڑکوں پر آئے کہ یہ تو کوئی بات نہیں کہ وہ اقتدار کے مزے بھی لوٹے اور ریاستی درجے کی بحالی کیلئے کچھ نہ کرے ‘ زبابی جمع خرچ کے علاوہ … اب این سی دباؤ میں آتی ہے یا نہیں یہ تو ہم نہیں جانتے ہیں… لیکن جو ایک بات ہم جانتے اور مانتے ہیں وہ یہ ہے کہ دہلی… مودی جی اور ان کی دہلی دباؤ میں آنے والی نہیںہے… بالکل بھی نہیںہے… اس لئے دہلی میں کانگریس کے راہل بابا اور کھڑگے جی نے وزیر اعظم کو جموںکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کیلئے جو خط لکھا ہے ہمیں یقین ہے وہ خط اب آپ کو کسی کوڈے دان میں ملے گا اور… اور اس لئے ملے گا کہ… کہ اپنے رجیجو… مرکزی وزیر رجیجو کہتے ہیں… ان کی خواہش ہے کہ کاش راہل بابا کسی بھی طرح مودی جی کے ٹکر کے ہوتے ‘ کسی بھی طرح ان کی برابری کے ہو تے … یعنی رجیجو کے کہنے کا مطلب ہے کہ راہل بابا چونکہ مودی جی کے ٹکر کے نہیں ہیں… اس لئے ان کاہونا یا نہ ہونا ‘ ان کا کچھ کہنا یا نہ کہنا ‘ ان کا کچھ لکھنا یا نہ لکھنا کوئی معنی نہیںرکھتا ہے… بالکل بھی نہیں رکھتا ہے … اس لئے صاحب مودی جی کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے… بالکل بھی نہیں آئیں گے… اور اگر سرینگر میں این سی دباؤ میں آگئی … کانگریسی سیاست کی دباؤ میں آگئی اور سڑکوں پر نکلنا چاہا…تو… تو کیا یہ سڑکوں پر نکل پائیگی؟جواب آپ بھی جانتے ہیں اور ہم بھی‘ جواب آپ کو بھی مل گیا اور ہمیں بھی… ۱۳ جولائی کومل گیا ۔ ہے نا؟



