سرینگر/ایجنسیز/ڈیسک)
امر ناتھ یاترا کے ابتدائی پندرہ دنوں میں۲لاکھ ۵۱ہزار سے زائد عقیدت مندوں نے گپھا میں بھگوان شیو کے درشن کیے ہیں۔
جمعرات کو خراب موسم کے باعث وقتی طور پر یاترا کو معطل کرنا پڑا، تاہم بعد ازاں موسم میں بہتری آتے ہی با لتل اور پہلگام کے دونوں بیس کیمپوں سے یاتریوں کو دوبارہ روانگی کی اجازت دی گئی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق جمعرات کی دوپہر ۲بجے تک مزید ۵۱۱۰یاتریوں نے درشن کیے ، جس کے ساتھ ہی۳جولائی سے شروع ہونے والی یاترا کے دوران مجموعی تعداد ۵۱ء۲لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے ۔
حکام کا کہنا ہے کہ امسال کی یاترا کو ملک و بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے عقیدت مندوں کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے ۔ ہر عمر اور طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ اس روحانی سفر میں شریک ہو رہے ہیں ۔
حکام نے مزید بتایا کہ یاتریوں کے لیے صاف صفائی، طبی سہولیات، خوراک، ٹرانسپورٹ اور سیکورٹی سمیت تمام ضروری انتظامات بخوبی انجام دیے جا رہے ہیں۔
یاتریوں نے شری امرناتھ شرائن بورڈ، سیکورٹی فورسز، رضاکاروں اور مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے فراہم کی جا رہی خدمات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔
اگرچہ ہمالیائی علاقوں میں دشوار گزار راستے اور غیر متوقع موسمی حالات یاترا کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں، تاہم انتظامیہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔
یاد رہے کہ یہ یاترا ۹؍اگست تک جاری رہے گی اور حکام کا اندازہ ہے کہ آنے والے دنوں میں درشن کرنے والے یاتریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
دریں اثنا جاری وزیر اعلیٰ‘عمرعبداللہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سال یاتریوں کی تعداد ۵ء۳ لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔
جموں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’ایک وقت تھا جب پہلگام کے واقعے کی وجہ سے ہمیں اس بار یاترا کے لیے آنے والے کسی شخص کے بارے میں شکوک و شبہات تھے۔ اب تک۵۰ء۲لاکھ افراد نے درشن کئے اور اگر یہ رجحان جاری رہا تو یہ تعداد آسانی سے ۵۰ء۳ لاکھ سے تجاوز کر جائے گی کیونکہ یاترا ۹؍اگست تک جاری رہے گی۔ مجھے امید ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھے گی۔ ‘‘
ادھرصوبائی کمشنر کشمیروِجے کمار بدھوری نے بتایا،’’گزشتہ چند دِنوں سے جاری مسلسل بارش کے باعث راستوں پرفوری مرمت اور دیکھ دیکھ کے کاموں کی ضرورت ہے۔ اِس لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آج کسی بھی یاتری کو پہلگام یا بال تل بیس کیمپ سے پوترگپھا کی طرف جانے کی اِجازت نہیں دی جائے گی۔تاہم، جو یاتری گزشتہ رات پنج ترنی کیمپ میں ٹھہرے تھے، انہیں بروقت تعینات بارڈر روڈ آرگنائزیشن (بی آر او) اور ماؤنٹین ریسکو ٹیموں کی نگرانی میں بال تل کی طرف روانہ ہونے کی اِجازت دی گئی ہے۔ موسم کی صورتحال کے پیش نظر یاترا کے کل دوبارہ شروع ہونے کا قوی اِمکان ہے۔‘‘










