محبوبہ نے پیر کو ’ایکس‘پر ایک پوسٹ میں کہا’’ایران میں پھنسے ہوئے کشمیری طلبا کے اہلخانہ کی بے چینی ہر گذرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے‘‘۔
ان کا پوسٹ میں کہنا تھا’’میں وزارت خارجہ سے پر زور اپیل کرتی ہوں کہ وہ مداخلت کرے اور ان بچوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کرے ‘‘۔
ادھر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے بھی حکومت سے ایران میں پھنسے کشمیری طلبا کی واپسی کے لئے اقدام کرنے کی اپیل کی ہے ۔
لون نے ’ایکس‘پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا’’ حکومت سے عاجزانہ اپیل، ہمیں اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے جو کچھ کرنا ہو گا وہ کرنا چاہیے‘‘۔ان کا کہنا تھا’’طلباء جو وہاں پھنسے ہوئے ہیں انہیں بحفاظت واپس لانے کے لئے کوششیں کرنی چاہئے ‘‘۔
اس دوران بی جے پی کے سینئر لیڈر رویندر رینا کا کہنا ہے کہ مرکز نے ایران میں پھنسے ہوئے جموں و کشمیر کے طلباء اور تاجروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں۔
رینا نے کہا’’بہت سے طلباء اور ان کے والدین نے میرے ساتھ رابطہ کیا ہے اور میں نے انہیں یقین دلایا کہ طلبا کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنے دیا جائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو انہیں بحفاظت نکال لیا جائے گا‘‘۔
بی جے پی نے ان باتوں کا اظہار پیر کو یہاں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔
رینا نے کہا’’ہم ایران میں زیر تعلیم اپنے طلباء کی حفاظت اور سلامتی کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی نے وہاں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلباء اور تاجروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پہلے ہی اقدامات کیے ہیں‘‘۔
بی جے پی لیڈر نے کہا کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر حکومت ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ہندوستانی ہائی کمیشن بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے ۔
ان کا کہنا تھا’’ایران میں ہمارے بہت سے طلباء اور والدین نے مجھ سے رابطہ کیا اور میں انہیں اور تاجروں کو بھی یقین دلاتا ہوں کہ حکومت ہند انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہونے دے گی۔ وہ ہمارے بچے ہیں اور ہمارے ملک کے بچے ہیں‘‘۔
رینا نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان کی حفاظت کرے اور ان کی حفاظت کا خیال رکھے ۔انہوں نے کہا’’ہمارے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر انہیں وطن واپس لایا جائے گا‘‘۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گذشتہ روز ایران میں زیر تعلیم کشمیری طلبا کی حفاظت کے حوالے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے بات چیت کی۔انہوں نے’ایکس‘پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا’’میں نے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کے ساتھ ایران کی صورتحال خاص طور پر اس ملک میں کشمیری طلبا کی فلاح و بہبود کے حوالے سے بات کی‘‘۔
عمرعبداللہ کا کہنا تھا’’انہوں نے مجھے یقین دہانی کی کہ وزارت خارجہ ایران میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ایران میں زیر تعلیم ہندوستانی طلبا کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدام کئے جائیں گے ‘‘۔
ایران اور اسرائیل میں جاری جنگ کے بیچ ایران میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کی سلامتی کو لے کر والدین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے ۔اتوار کے روز درجنوں والدین نے پریس کالونی، سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت ہند سے اپنے بچوں کی فوری وطن واپسی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا









