اتوار, جولائی 26, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

پردھان مستعفی‘سی جے پی کا احتجاج بھی ختم

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-26
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
پردھان مستعفی‘سی جے پی کا احتجاج بھی ختم
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

این ای ای ٹی پیپر لیک معاملے پر طلبہ کی ملک گیر تحریک کو بڑی کامیابی؛حکومت نے تمام مطالبات تسلیم کر لیے

’میں نہیں چاہتا کہ ملک دشمن عناصر اس صورتحال سے فائدہ اٹھائیں یاطالب علموںکا مستقبل قانونی پیچیدگیوں میں الجھے‘

ایجنسیاں 

متعلقہ

 جموں و کشمیر کی سیاسی پارٹیاں:’پردھان کا استعفیٰ نوجوانوں کی فتح‘

کرگل وجے دیوس تقریبات میں شرکت کیلئےراج ناتھ سرینگر پہنچ گئے

نئی دہلی؍۲۵جولائی

                کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے ہفتہ کے روز مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور حکومت کی جانب سے اپنے دیگر تمام مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد اپنا۳۶ روزہ احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

                 این ای ای ٹی پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والی نوجوانوں کی اس غیر معمولی تحریک نے ملک بھر میں لاکھوں افراد کو متحرک کر دیا تھا۔

                دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس دن کے واقعات نے انہیں گہرا دکھ پہنچایا ہے اور یہ معاملہ ان کے لیے ذاتی وقار کا مسئلہ نہیں ہے۔

                انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ’’ملک دشمن عناصر‘‘ اس صورتحال سے فائدہ اٹھائیں۔ ان کے بقول، ان کی خواہش ہے کہ ’’ملک کا اتحاد برقرار رہے، کسی ایک طالب علم کا مستقبل بھی قانونی پیچیدگیوں میں نہ الجھے اور طلبہ اپنی توانائیاں تعلیم اور اپنے کیریئر کی تعمیر پر صرف کریں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنا استعفیٰ معزز وزیر اعظم کو بھیج دیا ہے۔‘‘

                  پردھان کے استعفے کے فوراً بعد سی جے پی نے اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے باقی تمام مطالبات مان لیے جانے کے بعد احتجاج فوری طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔ ان مطالبات میں این ای ای ٹی پیپر لیک کے بعد مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو معاوضہ دینا اور مظاہرین کے خلاف درج تمام ایف آئی آر واپس لینا بھی شامل ہے۔

                یہ اعلان آئین کلب آف انڈیا میں حکومت اور سی جے پی کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد سامنے آیا، جہاں مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے سی جے پی کے نمائندوں سورَو داس اور آشوتوش رانکا سے ملاقات کی۔

                سی جے پی قیادت کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے پی نڈا نے کہا کہ حکومت این ای ای ٹی تنازع کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو قواعد کے مطابق ’’باعزت معاوضہ‘‘ فراہم کرے گی اور مظاہرین کے خلاف درج تمام ایف آئی آر واپس لی جائیں گی۔

                سی جے پی رہنما سورَو داس نے کہا، ’’چونکہ حکومت نے ہمارے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، اس لیے ہم اپنا احتجاج فوری طور پر ختم کرتے ہیں۔ ہم سب سے اپیل کرتے ہیں کہ پُرامن طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جائیں۔‘‘

                پردھان کے استعفے کی خبر آتے ہی جنتر منتر پر جشن کا ماحول بن گیا اور ’’ہم جیت گئے‘‘ کے نعروں سے احتجاجی مقام گونج اٹھا۔

                احتجاج ختم ہونے کے بعد انتظامیہ نے مظاہرین سے پُرامن طور پر منتشر ہونے کی اپیل کی، جبکہ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے قریبی اسٹیشنوں کے تمام داخلی اور خارجی دروازے دوبارہ کھول دیے تاکہ لوگوں کی آمدورفت میں آسانی ہو۔

                پردھان کا استعفیٰ نریندر مودی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی پسپائی تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ ابتدا میں حکومت نے احتجاج کو نظر انداز کیا تھا، تاہم بعد میں مظاہرین سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

                ۲۰۱۴ میں نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد دھرمیندر پردھان عوامی دباؤ کے نتیجے میں استعفیٰ دینے والے دوسرے مرکزی وزیر ہیں۔ اس سے قبل۲۰۱۸ میں ایم جے اکبر نے’می ٹو‘ مہم کے دوران جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد وزارتِ خارجہ میں وزیر مملکت کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔

                پردھان کا استعفیٰ ان چند مواقع میں شامل ہے جب۲۰۱۴ کے بعد مودی حکومت نے مسلسل عوامی یا سیاسی دباؤ کے سامنے پسپائی اختیار کی۔ اس سے قبل۲۰۱۵ میں مجوزہ اراضی حصول قانون میں ترامیم واپس لینا اور۲۰۲۱ میں تین زرعی قوانین منسوخ کرنا بھی ایسے ہی اہم فیصلے تھے۔

                یہ احتجاج کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں شروع ہوا، جسے سابق عام آدمی پارٹی رہنما ابھیجیت ڈپکے نے مئی میں ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع کیا تھا، لیکن بعد میں یہ این ای ای ٹی پیپر لیک میں جوابدہی کے مطالبے پر مبنی ملک گیر نوجوان تحریک میں تبدیل ہو گیا۔

                احتجاج کا آغاز۲۰ جون کو جنتر منتر سے ہوا، تاہم۲۸ جون کو سماجی کارکن سونم وانگچک کے چھ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کارکنوں کے ساتھ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کے بعد اس تحریک کو قومی سطح پر زبردست تقویت ملی۔ وانگچک نے جمعرات کی شب مرکز کی جانب سے رابطہ کیے جانے کے بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔

                حکومت اور سی جے پی قیادت کے درمیان پہلی باضابطہ ملاقات۲۰ جولائی کو جے پی نڈا کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ اسی دوران پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کارروائی نے احتجاج کو مزید شدت بخشی اور عوامی حمایت میں اضافہ کیا۔

                مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کے روز اس وقت ہوا جب حکومت نے سی جے پی کا یہ مطالبہ بھی مان لیا کہ مذاکرات کسی وزیر کی رہائش گاہ کے بجائے غیر جانبدار مقام پر ہوں۔

                ۱۸جولائی کو پولیس کی جانب سے سونم وانگچک کو جنتر منتر سے زبردستی صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے واقعے نے بھی عوامی غصے کو بڑھایا اور تحریک کے حق میں مزید حمایت پیدا کی۔

                پردھان کے استعفے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سونم وانگچک نے اسے ’’جمہوریت، براہِ راست جمہوریت اور سڑکوں سے اٹھنے والی عوامی طاقت کی فتح‘‘ قرار دیا۔انہوں نے کہا، ’’یہ امن، صبر اور ثابت قدمی کی جیت ہے۔‘‘ انہوں نے سی جے پی، نئی نسل اور ملک بھر کے شہریوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خوف کو شکست دے کر ہر کونے سے آواز بلند کی۔

                جنتر منتر پر مظاہرین نے استعفے کی خبر ملتے ہی رقص کیا، قومی پرچم لہرایا، ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور پس منظر میں ’’چک دے انڈیا‘‘ جیسے نغمے بجتے رہے۔ کئی مظاہرین ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اور اس استعفے کو اپنی تحریک کی کامیابی قرار دے رہے تھے۔

                اس موقع پر ابھیجیت ڈپکے نے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے کر دکھایا۔ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر آپ خوفزدہ نہ ہوں تو کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔‘‘

                انہوں نے کہا، ’’لوگ کہتے تھے کہ یہ حکومت استعفے نہیں لیتی، لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر جھکانے والا ہو تو دنیا جھک جاتی ہے۔‘‘

                ڈپکے نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کا بھی شکریہ ادا کیا، جن کے بے روزگار نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ کہنے والے ریمارکس نے اس تحریک کو جنم دیا۔انہوں نے کہا، ’’اگر آپ ہمیں کاکروچ نہ کہتے تو میں بھارت واپس نہ آتا، نوجوان سڑکوں پر نہ نکلتے اور دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ بھی نہ ہوتا۔‘‘

                لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے، جنہوں نے۲۱ جولائی کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر کانگریس کے دھرنے کی قیادت کی تھی، کہا کہ اب بھی دو مطالبات باقی ہیں: احتجاجی طلبہ پر مبینہ مظالم کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے طلبہ سے معافی۔انہوں نے کہا، ’’ڈرو مت۔ آئیں اس نظام کو ختم کریں جو بھارت پر حملہ آور ہے، ہمارے آئین کو کمزور کر رہا ہے اور ہمارے تمام اداروں پر قبضہ کر رہا ہے۔‘‘

                بعد ازاں۱۰ جن پتھ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ طلبہ پر تشدد کے لیے ’’براہِ راست ذمہ دار‘‘ ہیں اور انہوں نے ہی مظاہرین کے خلاف مہلک ہتھیاروں اور پیلٹ گن کے استعمال کی اجازت دی۔انہوں نے کہا، ’’ہم طلبہ پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کو قبول نہیں کریں گے۔ پارلیمنٹ میں یہ ہمارا اہم ترین مسئلہ ہوگا۔‘‘

                دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے دھرمیندر پردھان کا دفاع کرتے ہوئے پارٹی صدر نتن نبین کہا کہ ان کا استعفیٰ ’’اعلیٰ ترین دیانت داری اور بے لوث عوامی خدمت‘‘ کی مثال ہے۔

                انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’بطور مرکزی وزیر تعلیم انہوں نے ملک کے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور قومی تعلیمی پالیسی کے نفاذ میں اہم کردار ادا کیا۔ وسیع تر قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے ان کا استعفیٰ عوامی زندگی میں دیانت داری اور بے لوث خدمت کی اعلیٰ مثال ہے۔ پارٹی ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔‘‘

                واضح رہے کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اس اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں مرکزی حکومت نے امتحانی بے ضابطگیوں پر قابو پانے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا تھا، جن میں پیپر لیک میں ملوث افراد کے لیے سخت سزاؤں پر مبنی نئے قانون کی تجویز اور ایسے مقدمات کی تیز رفتار سماعت کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

 جموں و کشمیر کی سیاسی پارٹیاں:’پردھان کا استعفیٰ نوجوانوں کی فتح‘

Next Post

جنتر منتر احتجاج اور کشمیری سیاستدان

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

 جموں و کشمیر کی سیاسی پارٹیاں:’پردھان کا استعفیٰ نوجوانوں کی فتح‘
اہم ترین

 جموں و کشمیر کی سیاسی پارٹیاں:’پردھان کا استعفیٰ نوجوانوں کی فتح‘

2026-07-26
کرگل وجے دیوس تقریبات میں  شرکت کیلئےراج ناتھ سرینگر پہنچ گئے
اہم ترین

کرگل وجے دیوس تقریبات میں شرکت کیلئےراج ناتھ سرینگر پہنچ گئے

2026-07-26
 وادی میںمسلسل پانچویں روز بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہا
اہم ترین

 وادی میںمسلسل پانچویں روز بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہا

2026-07-26
’منشیات کو نہ، کتابوں کو ہاں:سنہا کی نوجوانوں سے مطالعہ اپنانے کی اپیل
اہم ترین

’منشیات کو نہ، کتابوں کو ہاں:سنہا کی نوجوانوں سے مطالعہ اپنانے کی اپیل

2026-07-26
۳۶ دنوں تک جاری رہنے والےجنتر منتر کا ا بڑا چیلنج:روزانہ پندرہ ہزار کلوگرام کچرا
اہم ترین

۳۶ دنوں تک جاری رہنے والےجنتر منتر کا ا بڑا چیلنج:روزانہ پندرہ ہزار کلوگرام کچرا

2026-07-26
سے ۵۱اگست تک جموں صوبے میں شدید بارشوں کا امکان خراب موسم کے باعث پونچھ میں دوسرے روز بھی اسکول بند رہے
اہم ترین

’ پہلگام راستہ عارضی طور پر بند یاترا بالتل روٹ سے جاری رہے گی‘

2026-07-26
گاندربل میں موٹر سائیکل کی   ٹکر سے راہگیر جاں بحق، ایک زخمی
اہم ترین

 ڈوڈہ میں ٹیمپو حادثے کا شکار، دو افراد جاں بحق، چار زخمی

2026-07-26
’سرینگر کی فضائی نگرانی کیلئے جدید ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے ‘
اہم ترین

سانبہ اور کٹھوعہ میں سرحد پار سے مشتبہ ڈرون کی پرواز‘ تلاشی کارروائیاں شروع

2026-07-26
Next Post
آگ سے متاثرین کی امداد

جنتر منتر احتجاج اور کشمیری سیاستدان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.