نئی دہلی// نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکڑنے کہا ہے کہ قانون بنانے کا واحد حق پارلیمنٹ کے پاس ہے ۔
پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں راجیہ سبھا انٹرنشپ پروگرام کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر دھنکھر نے آج کہا کہ حال ہی میں ایک ریاست نے سرکاری ٹھیکوں میں مذہبی بنیادوں پر ایک کمیونٹی کو ریزرویشن دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ یہ آئین کی شقوں کے خلاف ہے ۔
مسٹر نے کہا کہ کیا ہمارا آئین مذہبی بنیادوں پر ریزرویشن کی اجازت دیتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر مذہبی بنیادوں پر ریزرویشن دینے کے خلاف تھے ۔
چیئرمین نے کہا کہ ملک میں آئین کی شقوں کے مطابق حکومت ہوتی ہے ۔ آئین میں تبدیلی کا واحد اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے ۔ انہوں نے کہا "جب آئین میں ترمیم کی بات آتی ہے تو پارلیمنٹ ہی واحد ادارہ ہے ، بعض معاملات میں ریاستی مقننہ کے ساتھ مل کر آئین میں ترمیم کی جاتی ہے ۔ آئین میں ترمیم کے حوالے سے پارلیمنٹ ہی حتمی اتھارٹی ہے ، اس میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا۔”
انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو پارلیمنٹ اور ریاستی مقننہ کے بنائے گئے قوانین کا عدالتی جائزہ لینے کا حق حاصل ہے ۔