سرینگر//
وزیر اعلیٰ‘ عمر عبداللہ نے چہارشنبہ کے روز کہا کہ انہوں نے نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ساتھ حالیہ ملاقات کے دوران کٹھوعہ اور سوپور واقعات پر تبادلہ خیال کیا۔
وسطی کشمیر کے بیہامہ میں آگ سے متاثرہ خاندان سے ملاقات کے بعد وزیر اعلی نے کہا کہ وزیر داخلہ کے ساتھ ان کی ملاقات اچھی رہی۔ کٹھوعہ اور سوپور واقعات سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عمر کاکہنا تھا’’ہم نے دونوں معاملوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ان واقعات میں ملوث افراد سے سختی سے نمٹا جائے گا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہم نے جموں کشمیر کی ریاست کا درجہ بحال کرنے اور جموں و کشمیر اسمبلی کے آئندہ بجٹ اجلاس پر بھی تبادلہ خیال کیا‘‘۔
عمر نے شاہ کے ساتھ اپنی بات چیت کے دوران جموں و کشمیر کی ریاست کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا’’ظاہر ہے، ہم نے ریاست کے بارے میں بات کی۔ اس وقت جموں و کشمیر ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے اور مرکز اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بجٹ اجلاس ۳مارچ کو ہوگا، اس لئے ہمیں اس کا انتظار کرنا چاہئے۔‘‘
اس سے پہلے عمر عبداللہ ‘جو مقامی ایم ایل اے بھی ہیں، نے چہارشنبہ کے روز گاندربل کے بیہامہ علاقے کا دورہ کیا اور آگ سے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی۔
اپنے دورے کے دوران عمر عبداللہ نے گھر کے مالک عبدالرشید غنی اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور اظہار یکجہتی کیا۔انہوں نے اہل خانہ کو ان کے گھر کی تعمیر نو اور ضروری مدد فراہم کرنے میں حکومت کے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
وزیراعلیٰ نے مقامی حکام کو ہدایت کی کہ وہ امدادی اقدامات میں تیزی لائیں اور واقعے سے متاثرہ افراد کو فوری مدد فراہم کریں۔ان کے ہمراہ مشیر ناصر اسلم وانی، ڈپٹی کمشنر گاندربل اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔










