سرینگر//
جموں کشمیر اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بدھ کو۱۱ء۵۴ فیصد سے زیادہ رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
عہدیداروں نے بتایا کہ پولنگ پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوئی۔
جموں و کشمیر کے چیف الیکٹورل آفیسر پی کے پولے نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے مرحلے میں۱۱ء۵۴ فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔
پولے نے کہا کہ یہ شرح عارضی ہے کیونکہ حضرت بل اور ریاسی جیسے کچھ مقامات پر پولنگ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پولنگ پرامن اور مجموعی طور پر ہموار رہی۔
سی ای او نے کہا کہ پولنگ مجموعی طور پر پرامن رہی۔ بحث و مباحثہ وغیرہ جیسے کچھ واقعات پیش آئے لیکن کہیں بھی دوبارہ ووٹنگ کی ضرورت نہیں ہے۔
دوسرے مرحلے کے دوران غیر ملکی سفیروں کے ۱۶ رکنی وفد نے انتخابات دیکھنے کے لئے وادی کا دورہ کیا۔
شورش کے آغاز کے بعد شاید یہ پہلا موقع ہے کہ بین الاقوامی مبصرین کو جموں و کشمیر میں انتخابات دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔تاہم اس اقدام پر سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں انتخابات ملک کا اندرونی معاملہ ہے۔
پولے نے مزید بتایا کہ ریاسی ضلع میں سب سے زیادہ۸۱ء۷۱فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ، پونچھ میں۵۹ء۷۱‘راجوری میں۲۲ء۶۸‘بڈگام میں۹۷ء۵۸‘ گاندربل میں۸۱ء۵۸اور سرینگر میں۳۷ء۲۷فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے ۔
پولے نے کہا کہ گلاب گڑھ میں ووٹنگ کی شرح۴۹ء۷۳ فیصد رہی ‘ سرنکوٹ میں ۱۱ء۷۵‘ ریاسی ۰ء۷۱‘ نوشہرہ میں۰ء۷۲‘ کالاکوٹ،سندربنی میں ۷۱ء۶۸‘پونچھ،حویلی میں ۹۲ء۷۴‘ راجوری میں ۶۴ء۷۰‘بدھل میں۵۸ء۶۸‘ تھنہ منڈی میں۶۶ء۶۹؍اور میندھر میں۰۸ء۷۱ فیصد رہی۔
سی ای او نے کہا کہ خان صاحب میں ووٹنگ کی ۶۶ء۷۱ فیصد رہی ‘کنگن میں ۸۹ء۷۱‘چرار شریف میں ۴۴ء۶۷‘چاڈورہ میں۲۵ء۵۵‘گاندربل میں ۹۷ء۵۶‘بیرواہ میں۳۱ء۶۳‘بڈگام میں ۱۳ء۵۱‘ حضرت بل میں۶۹ء۳۰‘خانیار میں ۰۷ء۲۶‘حبہ کدل میں۳۹ء۱۸‘ لالچوک میں ۱۱ء۳۲‘ چھانہ پورہ میں۲۹ء۲۵‘زڈی بل میں۷۳ء۳۰‘ وسطی شالٹینگ۰۷ء۳۱؍اور عیدگاہ میں۹۳ء۳۶فیصد رہی۔
پولنگ کے اس مرحلے میں کل۲سو۳۹؍ امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔رائے دہندگان کی آسانی کیلئے الیکشن کمیشن نے۳ہزار۵سو۲پولنگ اسٹیشن قائم کئے ہیں جن میں ویب کاسٹنگ کے ساتھ تمام تر سہولیات بہم رکھی گئی ہیں۔
انتخابات کے دوسرے مرحلے میں جموں و کشمیر کی کل ۹۰سیٹوں میں سے چھ اضلاع کی۲۶نشستوں کی پولنگ ہوئی جن میں سے کشمیر میں۱۵جبکہ جموں صوبے میں ۱۱حلقوں پر پولنگ ہوئی۔
دریں اثنا حکام نے پر امن اور صاف و شفاف پولنگ کو یقینی بنانے کے لئے وسیع تر انتظامات کئے ہیں۔اسمبلی انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلہ یکم اکتوبر کو منعقد ہوگا جبکہ ووٹوں کی گنتی ۸؍اکتوبر کو ہوگی۔
اس مرحلے میں جو نمایاں امید وار قسمت آزمائی کر رہے ہیں ان میں نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ، بی جے پی جموں وکشمیر یونٹ کے صدر رویندر رینہ، جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق قرہ، اپنی پارٹی کے صدر سید الطاف بخاری، جیل میں بند سرجان احمد وگے المعرف سرجان برکاتی، نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر علی محمد ساگر، عبدالرحیم راتھر، بی جے پی لیڈر اعجاز حسین، ذوالفقار چودھری اور سید مشتاق بخاری قابل ذکر ہیں۔
بتادیں کہ پہلے مرحلے کی پولنگ ۱۸ستمبر کو منعقد ہوئی تھی جس میں ووٹنگ کی شرح مجموعی طور پر۶۱فیصد ریکارڈ ہوئی تھی۔