سرینگر//
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیرا علیٰ‘ عمر عبداللہ نے جمعہ کو بارہمولہ کے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ شیخ عبدالرشید سے کہا کہ وہ واضح کریں کہ اگر جموں کشمیر انتخابات کے بعد اگر ضرورت پڑی تو کیا ان کی پارٹی بی جے پی کی حمایت کرے گی۔
عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے سربراہ، جو انجینئر رشید کے نام سے مشہور ہیں، دہلی کی تہاڑ جیل میں سلاخوں کے پیچھے تھے اور اسمبلی انتخابات کی مہم چلانے کے لئے بدھ کو عبوری ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔
جمعہ کو عمر عبداللہ نے جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے دیوسر علاقے میں ایک انتخابی ریلی کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا ’’کل ایک سیمینار میں جب رشید سے پوچھا گیا کہ کیا وہ انتخابات کے بعد بی جے پی کی حمایت کریں گے تو وہ خاموش رہے۔ وہ واضح طور پر کیوں نہیں کہتے کہ وہ انتخابات کے بعد کسی بھی طرح سے بی جے پی کی حمایت نہیں کریں گے‘‘۔
این سی نائب صدر نے کہا’’ انجینئر رشید نے شاید کل کہا تھا کہ اگر میں ان کے ساتھ دہلی واپس جانے کے لئے تیار ہوں تو وہ ہمارے حق میں میدان چھوڑ دیں گے۔ آج، میں کہتا ہوں کہ جس دن انہیں تہاڑ جیل واپس جانا پڑے گا، میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور انہیں وہاں چھوڑ دوں گا۔ انہیں میدان چھوڑ کر گھر بیٹھنا چاہیے‘‘۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی پارٹی نے اپنے منشور میں جموں و کشمیر کے عوام سے جڑے ہر مسئلے پر بات کی ہے۔
عمر نے کہا’’ہم (این سی) نے آرٹیکل ۳۷۰ کے بارے میں بات کی ہے۔ ہم نے مسئلہ کشمیر پر بات کی ہے۔ ہم نے ہمیشہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی بات کی ہے۔ اور ہم نے یہاں کے لوگوں کے روز مرہ کے مسائل کے بارے میں بھی بات کی ہے۔ ہمارے پاس کیا مسئلہ رہ گیا ہے؟‘‘
لوک سبھا انتخابات میں رشید کے ہاتھوں شکست کھانے والے عمرعبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو بی جے پی کی وجہ سے کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
این سی نائب صدر نے کہا’’جموں ہو یا کشمیر، ہر جگہ لوگ مایوس ہیں۔ اس مایوسی اور تکلیف سے چھٹکارا پانے کے لیے بی جے پی اور جو لوگ۸؍ اکتوبر کے بعد بی جے پی کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں، انہیں اس الیکشن میں شکست دینی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہ ثابت کرنے کے لئے انتخابات سے پہلے اتحاد بنایا ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو حکومت بنانے کے لئے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لئے تیار نہیں ہیں‘‘۔
عمرعبداللہ کے مطابق دیگر پارٹیاں یا امیدوار کسی نہ کسی طرح سے بی جے پی کی مدد کرنے کے لئے انتخابی میدان میں تھے۔
ان کاکہنا تھا ’’ہم رائے دہندگان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اتحاد کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں تاکہ جموں و کشمیر کو بی جے پی سے بچانے کا موقع مل سکے اور گزشتہ ۱۰ سالوں میں ہونے والی ناانصافیوں اور استحصال کو درست کیا جاسکے‘‘۔
سپریم کورٹ کی جانب سے دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کو سی بی آئی معاملے میں ضمانت دینے کے بارے میں پوچھے جانے پرعمر عبداللہ نے کہا کہ بارہمولہ کے لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے کسی کو جیل سے باہر نکال سکتے ہیں۔
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی نے کہا’’کوئی بھی ووٹ کے ذریعے باہر نہیں نکلتا ہے، وہ صرف عدالت کے ذریعے باہر آتا ہے۔‘‘










