سرینگر//
جموں کشمیر اپنی پارٹی کے نائب صدر ظفر اقبال منہاس منگل کے روز پارٹی سے مستعفی ہوئے ۔
دوسری جانب سابق ریاستی وزیر عبدالحق خان پی ڈی پی میں دو بارہ شامل ہو گئے ہیں جبکہ اس پارٹی کے ترجمان اعلیٰ سہیل بخاری مستعفی ہو گئے ہیں۔
جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات سے قبل منہاس کا استعفیٰ اپنی پارٹی کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے ۔ حال ہی میں دو بڑے لیڈروں عثمان مجید اور نور محمد نے اس پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کی ہے ۔
منہاس نے مستعفی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا’’میں نے اپنی پارٹی سے استعفیٰ دیا ہے اور یہ میرے کارکنوں کی مانگ تھی‘‘۔انہوں نے کہا’’میں نے ابھی مستقبل کے لئے کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا ہے ‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’میں نے ابھی کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے آنے والے دنوں میں میرے کارکن طے کریں گے کہ آیا میں کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کروں گا یا ایک آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑوں گا‘‘۔
منہاس پی ڈی پی سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد اپنی پارٹی کے بانی ارکین میں سے ہیں۔ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منہاس کانگریس میں شامل ہو سکتے ہیں ۔
سید الطاف بخاری نے اپنی پارٹی کی داغ بیل سال۲۰۱۹میں دفعہ۳۷۰کی تنسیخ کے کچھ ماہ بعد ڈالی تھی۔حالیہ لوک سبھا انتخابات کے دوران پارٹی کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
اس دوران جموں و کشمیر کے سابق وزیر عبدالحق خان جو منگل کے روز دل کا دورہ پڑنے سے بچ گئے تھے، پارٹی سے استعفیٰ دینے کے تقریباًدو سال بعد پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) میں دوبارہ شامل ہوگئے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے سرینگر میں خان کی رہائش گاہ کا دورہ کرنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ حق خان ، جنہوں نے پہلے جموں و کشمیر کی صورتحال کی وجہ سے خود کو پی ڈی پی سے دور کردیا تھا ، اب پارٹی میں دوبارہ شامل ہوگئے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالیں گے۔
حق خان نے بھی ایک خبر رساں ادارے کو تصدیق کی کہ وہ دوبارہ پی ڈی پی میں شامل ہوگئے ہیں۔
خان نے جموں و کشمیر میں پی ڈی پی،بی جے پی اتحاد کے تحت دیہی ترقی، پنچایتی راج اور قانون و انصاف کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
خان نے۲۰۰۹ سے ۲۰۱۸تک قانون ساز اسمبلی میں لولاب حلقہ کی نمائندگی کی۔ وہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ٹکٹ پر ۲۰۰۸؍ اور ۲۰۱۴ میں لولاب حلقہ سے ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔
ادھر پی ڈی پی کے ترجمان اعلیٰ سہیل بخاری نے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات سے قبل منگل کو پارٹی چھوڑ دی۔
بخاری نے کہا کہ انہوں نے پی ڈی پی چھوڑ دی ہے، لیکن انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔
بخاری بظاہر الیکشن لڑنے کا مینڈیٹ نہ ملنے پر ناراض تھے۔انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ وہ واگورہ کریری سے الیکشن لڑیں گے لیکن سابق وزیر بشارت بخاری کی گزشتہ ماہ پی ڈی پی میں واپسی نے ان کے ٹکٹ حاصل کرنے کے امکانات کو کم کردیا۔
صحافی سے سیاست داں بننے والے بخاری پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے قریبی ساتھی تھے اور جب وہ وزیر اعلیٰ تھیں تو انہوں نے ان کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دی تھیں۔
اس سے قبل پارٹی ترجمان ڈاکٹر ہر بخش سنگھ جو ترال میں ڈی ڈی سی ممبرہیںنے پی ڈی پی سے استعفیٰ دے کر عوامی اتحاد پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔
محبوبہ مفتی کی قیادت والیپی ڈی پی نے اسمبلی انتخابات کے لئے جوں ہی پیر کو امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا اس دوران جنوبی کشمیر کے کچھ اہم علاقوں سے پارٹی سے وابستہ سینئر لیڈران نے سلیکشن لسٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی سے دوری کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔










