نئی دہلی/30 جولائی
وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) نے منگل کو لوک سبھا کو بتایا کہ اس سال 21 جولائی تک دہشت گردی کے 11 واقعات اور 24 انکاونٹر یا انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں عام شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں سمیت کل 28 لوگ مارے گئے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ پردیپ کمار سنگھ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے ایوان زیریں میں ایک تحریری جواب پیش کیا جس میں نشاندہی کی گئی کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات میں پچھلے سالوں کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔
رائے نے اعداد و شمار شیئر کیے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس سال 21 جولائی تک کل 14 سیکورٹی اہلکار اور 14 شہری ہلاک ہوئے، جبکہ 2023 میں مرکز کے زیر انتظام علاقے میں دہشت گردی کے 46 واقعات اور 48 انکاونٹر یا انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں 44 (30 سیکورٹی اہلکار اور 14 شہری) ہلاک ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق، 2018 میں سابق ریاست میں دہشت گردی کے 228 واقعات اور 189 انکاونٹر یا انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں 146 افراد (91 سیکورٹی اہلکار اور 55 شہری) ہلاک ہوئے۔ وزیر نے جموں و کشمیر حکومت سے حاصل اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "2018 میں پتھراو¿ کے 1328 منظم واقعات اور 52 منظم ہڑتالیں ہوئیں۔
وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی دہشت گردی کے خلاف مرکزی حکومت کی ’زیرو ٹالرنس‘پالیسی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا نقطہ نظر دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنا ہے۔ جموں و کشمیر میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے حفاظتی اقدامات کو مضبوط کیا جارہا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ جموں کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے اختیار کی گئی حکمت عملی اور اقدامات میں دہشت گردوں اور معاون ڈھانچوں کے خلاف موثر ، مسلسل اور مستقل کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پوری حکومت کے نقطہ نظر کا استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنا شامل ہے۔
دہشت گردی کی مالی اعانت کے خلاف کریک ڈاو¿ن، جیسے قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کی املاک کو ضبط کرنا اور ملک مخالف تنظیموں پر پابندی، روک تھام کی کارروائیوں میں دہشت گردی کے اسٹریٹجک حامیوں کی شناخت کرنا اور دہشت گردی کی حمایت اور حوصلہ افزائی کے ان کے میکانزم کو بے نقاب کرنے کے لئے تحقیقات شروع کرنا، دراندازی کو روکنے کے لئے کثیر جہتی حکمت عملی،جموں و کشمیر سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اہم اقدامات میں انسداد بغاوت گرڈ میں اضافہ اور سیکورٹی سازوسامان کو جدید بنانے اور مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دینا شامل ہے۔
وزیر نے کہا کہ اس کے علاوہ اسٹریٹجک مقامات پر چوبیس گھنٹے ناکہ بندی، دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے درپیش چیلنجوں سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے محاصرے اور تلاشی آپریشن (سی اے ایس او) میں اضافہ، جموں و کشمیر میں سرگرم تمام سیکورٹی فورسز کے درمیان حقیقی وقت کی بنیاد پر انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے دن رات علاقوں پر غلبہ حاصل کرنا دیگر حکمت عملی اور اقدامات شامل ہیں۔ (ایجنسیاں)










